Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

شوہر سے اپنی سوکن کے طلاق کا مطالبہ کرے تا کہ وہ اکیلی ہی اپنے شوہر کی بیوی بن جائے (فتح الباری لابن حجر، جلد 9، صفحہ 127)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عورت کے ساتھ اگر مذکورہ قسم کا معاملہ پیش آئے، یعنی وہ ایک شوہر کی دوسری بیوی ہو تو ایسی صورت میں اس کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو منفی نفسیات سے مکمل طور پر بچائے۔ وہ صورت حال کو پوری خوش دلی کے ساتھ قبول کرے۔ کیوں کہ دونوں کو وہی ملے گا جو ان کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے۔ دونوں میں سے کوئی نہ کسی کے حصہ میں سے کچھ لے سکتا ہے اور نہ کسی کے حصہ میں کچھ کمی کر سکتا ہے۔ اس کی منفی تدبیروں کے بعد بھی وہی ہوگا جو ہونے والا تھا، نہ کہ وہ جس کو اس نے اپنے منفی جذبات کے تحت اپنے یا دوسرے کے لیے چاہا تھا۔ ایسی حالت میں مذکورہ قسم کی عورت کے لیے جو صحیح روش ہے وہ قناعت اور خدا پر بھروسہ ہے۔ اس کو چاہیے کہ وہ پیش آمدہ صورت حال کو خدا کا فیصلہ سمجھ کر اس کو قبول کرے، نہ کہ بے فائدہ طور پر اس کو بدلنے کی کوشش کرے۔ مستقبل کی طرف دیکھنا شوہر اور بیوی کے درمیان پیدا ہونے والے بعض مسائل کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں ایک نصیحت آئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: خدا کسی پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اتنا ہی جتنا کہ اُس نے اس کو دیا ہے، خدا سختی کے بعد جلدی آسانی پیدا کر دے گا (65:7)۔ قرآن کی یہ آیت ازدواجی زندگی کی ایک اہم حکمت کو بتاتی ہے۔ وہ یہ کہ اختلافی معاملات میں صرف حال (present) کی بنیاد پر رائے قائم نہ کرنا بلکہ مستقبل (future) کو سامنے رکھ کر اپنی رائے بنانا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ جب ازدواجی زندگی میں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو لوگ صرف حال کو دیکھتے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ جو صورت حال آج ہے وہی کل باقی رہنے والی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page