عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
حال میں سوچنا کسی عورت یا مرد کے اندر محدود طرز فکر پیدا کرتا ہے۔ اس سے مایوسی اور جھنجھلاہٹ کا مزاج بنتا ہے۔ اس سے برتر سوچ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ برداشت کی ربانی صفت سے محروم رہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ برداشت کرنا اپنی محرومی کو قبول کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس کے برعکس مستقبل کو سامنے رکھ کر سوچنا مرد اور عورت کے اندر اعلیٰ صفات کی پرورش کرنا ہے۔ ایسے لوگ کبھی نا امید نہیں ہوتے۔ کیوں کہ ان کا احساس یہ ہوتا ہے کہ جو چیزیں انہیں آج نہیں مل رہی ہے وہ انہیں بدلے ہوئے حالات میں کل مل جائے گی۔ مستقبل بینی لوگوں کے اندر اعلیٰ ظرفی کا مزاج پیدا کرتی ہے۔ ایسے لوگوں کی نظر ہمیشہ زیادہ بڑی چیزوں پر ہوتی ہے، اس لیے چھوٹی چیزوں کا نقصان انہیں کوئی نقصان نظر نہیں آتا۔ صلح بہتر ہے قرآن میں شوہر اور بیوی کے درمیان پیدا ہونے والی نزاع کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بدسلوکی یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں آپس میں صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے (128: 4)۔ صلح کا مطلب مصالحت ہے۔ اس کا الٹا ٹکراؤ ہے۔ قرآنی طریقہ یہ ہے کہ نزاع کے وقت مصالحت کا طریقہ اختیار کیا جائے، نہ کہ ٹکراؤ کا طریقہ۔ عورت اور مرد کے درمیان نزاع کیوں پیدا ہوتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ مختلف وجوہ سے کسی معاملہ میں ایک کی رائے دوسرے کی رائے سے مختلف ہو جاتی ہے۔ ایک کچھ چاہتا ہے اور دوسرا کچھ۔ اب یہ ہوتا ہے کہ دونوں کے اندر ضد کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ ہر ایک یہ چاہنے لگتا ہے کہ میری بات پہلے۔ وقتی احساس کے تحت ایک کا ذہن یہ ہو جاتا ہے کہ میں صحیح ہوں اور دوسرا غلط۔ ایسے موقع پر بہتر طریقہ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader