عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ اپنی بات پر اصرار کرنے کے بجائے ٹھہر کر سوچا جائے۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے کہ ــــــ سوچیے، ضرور کوئی بہتر راستہ سامنے آجاۓ گا: Think, think, there must be a better way. سوچنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے ذہنی سانچے سے باہر آ کر دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔ معاملہ پر نتیجہ کے اعتبار سے غور کیا جائے۔ صحیح اور غلط کے بجاے یہ دیکھا جائے کہ عملی طور پر کیا ہو سکتا ہے اور کیا نہیں ہو سکتا ۔ یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ چھوٹا شر (lesser evil) کیا ہے اور بڑا شر (greater evil) کیا ہے اور پھر چھوٹے شر کو قبول کر لیا جائے۔ اور ایسے اقدام سے پر ہیز کیا جائے جو بڑا اثر پیدا کرنے والا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر مسئلہ سوچ کی سطح پر پیدا ہوتا ہے، اور سوچ کی سطح پر ہی اُس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ سوچ بلا شبہ کسی عورت یا مرد کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ سوچ کی سطح پر ہار نے کا نام ہار ہے، اور سوچ کی سطح پر جیتنے کا نام جیت۔ عورت کی سب سے بڑی کمزوری عورت کی سب سے بڑی کمزوری اس کی اولاد ہے۔ کہانیوں میں عورت کو محبت کی علامت بتایا گیا ہے۔ مگر یہ صرف محدود معنوں میں ہے۔ عملی طور پر دیکھیے تو عورت محبتِ اولاد کی علامت ہے، نہ کہ محبت انسان کی علامت۔ عورت کے دل میں خدا نے محبت کا گہرا جذبہ پیدا کیا ہے۔ ضرورت تھی کہ محبت کا یہ جذبہ پوری انسانیت تک پھیل جائے۔ مگر عملاً عورت نے اس کو اپنی اولاد کی محبت تک محدود کر دیا۔ عورت کی اس کمزوری کو ایک حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ حدیث عام طور پر حدیثِ جبریل کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے مطابق ، فرشتہ جبریل، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انسان کی صورت میں آئے۔ اُن کی اس آمد کا مقصد تعلیم دین تھا۔ اس کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader