عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
طریقہ اُنھوں نے یہ اختیار کیا کہ وہ سوالات کرتے رہے اور پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے دیے ہوئے علم کے مطابق، اُن کا جواب دیتے رہے۔ ایک سوال میں فرشتہ نے پوچھا کہ قیامت کی علامتیں کیا کیا ہیں۔ اس کے جواب میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علامتیں بتائیں اُن میں سے ایک علامت یہ تھی کہ جب عورت اپنا آقا جنے: إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّهَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50)۔ ’’عورت اپنا آقا جنے گی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ عورت خود اپنے پیدا کیے ہوئے بیٹے کی محبت میں اتنا زیادہ مغلوب ہو جائے گی اور اس طرح اس کی بات ماننے لگے گی گویا کہ وہ اس کا حاکم ہے اور وہ خود اس کی محکوم۔ عورت کے اندر یہ کمزوری ہمیشہ سے رہی ہے۔ مگر قیامت کے قریب اُس کا یہ مزاج بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ قیامت کی قربت سے مراد غالباً وہ زمانہ ہے جو صنعتی انقلاب کے بعد آیا ہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد بعض ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں جن میں اولاد کی حیثیت بہت بڑھ گئی ہے اور ماں اور باپ ہمیشہ سے زیادہ اپنی اولاد کی محبت میں گرفتار ہو گئے ہیں۔ وہ اپنا سارا اثاثہ صرف اپنی اولاد کے اوپر خرچ کر دینا چاہتے ہیں۔ اس صورت حال نے، خاص طور پر موجودہ زمانہ میں، عورت سے اس کا سب سے بڑا امتیاز چھین لیا ہے۔ عورت اپنی مختلف صلاحیتوں کی بنا پر اس قابل ہے کہ وہ وسیع تر انسانیت کے لیے ایک عظیم خدمت انجام دے سکے۔ وہ پوری انسانیت کے لیے معلم اور معمار بن جائے_ مگر اولاد کی بڑھی ہوئی محبت، صحیح تر الفاظ میں، بے جا محبت نے اُس کو اس معاملہ میں آفاقی رول ادا کرنے کے قابل نہیں رکھا۔ عملاً یہ ہوا کہ اس کی زندگی اپنے بیٹے کے لاڈ پیار سے شروع ہوتی ہے اور آخر کار اسی پر ختم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ عورت اس سے قاصرہ گئی کہ وہ آفاقی معنوں میں انسانیت کی کوئی اعلیٰ تعمیر کر سکے۔ جس عورت کو محبت کی علامت بتایا گیا تھا وہ صرف محبت فرزند کی علامت بن گئی، نہ کہ عمومی معنوں میں محبتِ انسان کی علامت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader