عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
غصہ کو بھلانا قرآن میں ایمان والوں کی ایک صفت یہ بتائی گئی ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ اس کو معاف کر دیتے ہیں (42:37)۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کے ساتھ میں جیویں۔ اور وہ بات لمبی نہ ہو کہ میں اس کو بھول جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم غصہ نہ کرو: عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَجُلاً جاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَعِيشُ بِهِنَّ وَلاَ تُكْثِرُ عَلَيَّ فَأَنْسَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَغْضَبْ (مؤطا الامام مالک، حدیث نمبر 1627)۔ یہاں سوال کرنے والے نے گویا یہ پوچھا تھا کہ زندگی کے معاملات کو درست طور پر چلانے کے لیے جامع نصیحت (master advice) کیا ہے۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ اس معاملہ میں ماسٹر فارمولا غصہ نہ کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کامیاب زندگی کا راز اس چیز میں ہے جس کو آرٹ آف اینگر مینجمنٹ (art of anger management) کہا جاسکتا ہے۔ غصہ ایک فطری جذبہ ہے۔ ہر عورت اور مرد کو کبھی نہ کبھی کسی بات پر غصہ آجاتا ہے۔ غصہ کے وقت عورت یا مرد کے ذہن میں ایک آگ سی بھڑک اٹھتی ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے وہ قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔ وہ چاہنے لگتا ہے کہ جو کچھ اس کے بس میں ہے وہ سب کر ڈالے۔ تاہم یہ ایک وقتی جذبہ ہوتا ہے۔ اگر آدمی غصہ کے تناؤ کو ڈے فیوز کرنے کی کوشش کرے تو صرف ایک دو منٹ میں اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور وہ نارمل آدمی کی طرح بن جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader