Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

غصہ کا جواب غصہ سے دینا گویا منفی بات کا منفی انداز میں جواب دینا ہے۔ یہ صحیح انسانی طریقہ نہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ کسی کی طرف سے منفی بات آئے تب بھی اس کا جواب مثبت انداز میں دیا جائے۔ منفی بات کا مثبت انداز میں جواب دینا کسی اور کے لیے نہیں ہوتا بلکہ وہ خود اپنے لیے ہوتا ہے۔ جب آپ غصہ ہو جائیں یا منفی احساس آپ کے اندر بھڑک اٹھے تو اس وقت آپ شدید ذہنی انتشار میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ آپ کا ذہنی عمل رک جاتا ہے۔ یہ آپ کا خود اپنا مسئلہ ہے۔ ایسی حالت میں غصہ کے جواب میں غصہ نہ کرنا یا اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا ایک ایسی روش ہے جس کا فائدہ سب سے پہلے خود آپ کو ملتا ہے۔ ایسی روش خود اپنے آپ کو بچانے کے ہم معنی ہے۔ کیوں کہ آپ کو اس کا نتیجہ اس طرح ملتا ہے کہ آپ کے اندر ذہنی ارتقاء کے عمل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی۔ آپ کا روحانی سفر کے بغیر برابر جاری رہتا ہے۔ عورت کا کمتر استعمال یہ تاریخ کا ایک المیہ ہے کہ بیشتر مرد ایک مشترک غلطی کا شکار ہوئے ہیں، اور وہ ہے عورت کا کمتر استعمال (under-use)۔ ہر عورت امکانی طور پر اپنے شوہر کی بہترین ذہنی رفیق (intellectual partner) ہے اور ذہنی رفیق بلا شبہ کسی مرد کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ مگر بیشتر مرد اپنے اس اثاثہ کو اس کی اعلیٰ صورت میں استعمال نہیں کر پاتے۔ وہ اس کا صرف کمتر استعمال کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ دونوں مر کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ عورت اپنے مزاج کے اعتبار سے اس کو پسند کرتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مزین کرے (الزخرف، 43:18)۔ مرد کا یہ کام ہے کہ وہ اس مزاج کو ایک صحت مند موڑ دے۔ وہ تزئین جسمانی کے مزاج کو تزئین ذہنی کی طرف موڑ دے۔ تا کہ عورت اس کی زندگی میں ذہنی رفیق کا رول ادا کرنے کے قابل ہو سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page