Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

لیکن مرد ایسا نہیں کرتا۔ وہ عورت کے مزاج کو خود اپنی تفریح کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ وہ خود بھی عورت کو خوش نما صورت میں دیکھنے کا خواہشمند بن جاتا ہے۔ وہ عورت کو صرف ایک ذریعہ مسرت (source of pleasure) کے طور پر لے لیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عورت اپنی ساری عمر بس اپنے جسم کو سنوارنے میں لگی رہتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں بنتی کہ اپنے ذہنی امکانات کو ترقی دے کر اپنے آپ کو اس کا اہل بنائے کہ وہ اپنے شریکِ حیات کے لیے اعلیٰ درجے کی ذہنی رفیق بن سکے۔ اس معاملے میں ایک حدیث سے رہنمائی ملتی ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اپنی دنیا سے محبت کی وہ اپنی آخرت کا نقصان کرے گا، اور جس نے اپنی آخرت سے محبت کی وہ اپنی دنیا کا نقصان کرے گا۔ پس تم فنا ہونے والی چیز پر اس کو ترجیح دو جو باقی رہنے والی ہے: مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى (مسند احمد، حدیث نمبر 19697)۔ اس حدیث میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں ایک چیز کو لینے کے لیے دوسری چیز کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہی اصول ازدواجی زندگی کے بارے میں بھی درست ہے۔ کوئی مرد اگر یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنا ذہنی رفیق بنائے تو اس کو یہ قربانی دینی پڑے گی کہ وہ عورت کی جسمانی خوش نمائی کو چھوڑ کر اس کی ذہنی ترقی کا شائق بنے۔ اسی قربانی کے ذریعہ یہ ممکن ہے کہ کسی مرد کے لیے اس کی عورت اعلیٰ تر معنوں میں اس کی ذہنی رفیق بن جائے۔ یہ قربانی صرف قربانی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے چھوٹے فائدے کو نظر انداز کر کے بڑے فائدے کو اپنے لیے لے لیا۔ نکاح میں ولی کی اہمیت حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں: لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِي (مسند احمد، حدیث نمبر 19518؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 1101)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page