Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

اس حدیث میں ولی کے بارے میں جو بات کہی گئی ہے وہ اعتقادی حکم نہیں ہے۔ بلکہ اس کی حیثیت ایک عملی ضرورت کی ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ولی کی موجودگی یا اس کی رضا مندی کے بغیر جو نکاح کیا جائے وہ شرعی اعتبار سے جائز نکاح نہ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کامیاب نکاح کی ایک عملی شرط یہ ہے کہ وہ ولی کی شرکت کے ساتھ ہو۔ ولی کا مطلب، دوسرے لفظوں میں، خاندانی بزرگ ہے۔ نکاح عام طور پر نوجوان لڑکے اور نوجوان لڑکی کے درمیان ہوتا ہے جن کو ابھی زندگی کا عملی تجربہ نہیں ہوا۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ خاندانی بزرگ کا تجربہ اس تعلق میں شامل ہو جو گویا شادی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس معاملہ میں دونوں طرف سے غلطیاں ہوئی ہیں جس نے اس ہدایت کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ ایک طرف یہ ہوا کہ ولی یا خاندان کے بزرگ نے اپنے اختیار کو غلط طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ مثلاً وہ لڑکے اور لڑکی کی مرضی جانے بغیر، حتی کہ ان کی مرضی کے خلاف جبری نکاح کروانے لگے۔ حالاں کہ حدیث میں واضح طور پر اس کو منع کیا گیا ہے۔ حدیث کے مطابق، یہ ضروری ہے کہ ولی حضرات اپنی حیثیت کا استعمال کرتے ہوئے لڑکے اور لڑکی کی رضا مندی کو بھی ضرور ملحوظ رکھیں ۔ وہ لڑکے اور لڑکی کی رضا مندی کو نظر انداز کر کے ان کا نکاح نہ کریں۔ ولی حضرات نے، خاص طور پر روایتی معاشرہ میں، مزید یہ بھیا تک غلطی کی کہ انھوں نے شادی کے ساتھ جہیز کو ایک لازمی جز ء کے طور پر شامل کر دیا۔ لڑکے کا باپ اپنے لڑکے کی شادی کے لیے لڑکی والوں سے بڑے بڑے جہیز کا مطالبہ کرتا ہے۔ خاندانی سر پرستوں میں یہ مزاج اتنا زیادہ بڑھا کہ شادی کو انھوں نے گویا خرید وفروخت کا ایک معاملہ بنا دیا۔ یہ طریقہ بلا شبہ غیر شرعی ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ آج کل جس قسم کے جہیز کا رواج پڑ گیا ہے وہ ایک تباہ کن سماجی برائی ہے۔ صحیح یہ ہے کہ نکاح بالکل سادہ طریقہ پر کیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page