عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
بھاری جہیز، بڑی بڑی مہر، رسوم و رواج کی دھوم کو مطلق طور پر ختم کر دینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں بدعت ہیں، اور بدعت سے کبھی خیر کی امید نہیں کی جاسکتی۔ دوسری طرف آج کل کے لڑکوں اور لڑکیوں میں ایک باغیانہ رجحان ابھرا ہے۔ وہ ولی یا خاندانی بزرگ کو نظر انداز کر کے آزادانہ طور پر ایک دوسرے سے براہِ راست تعلق قائم کرتے ہیں اور پھر ولی کی رضا مندی کے بغیر بطور خود آپس میں شادی کر لیتے ہیں۔ اس طریقہ کو عام طور پر محبت کی شادی (love marriage) کہا جاتا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ محبت کی شادی آخر کار نفرت کی شادی بن جاتی ہے۔ سروے کے ذریعہ معلوم ہوا ہے کہ جدید معاشرہ میں پچاس فیصد سے زیادہ ایسا ہوتا ہے کہ محبت کی شادیاں آخر کار تفریق اور طلاق پر ختم ہوتی ہیں۔ اور اگر کسی وجہ سے طلاق نہ ہو تب بھی شوہر اور بیوی کے باہمی تعلقات میں اتنا بگاڑ آ جاتا ہے کہ وہ پرسکون زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہتے۔ اس تجربہ کی روشنی میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ محبت کی شادی (love marriage) دراصل شہوت کی شادی (lust marriage) تھی جس کو غلط طور پر محبت کی شادی کا خوبصورت نام دے دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اصولاً شادی کا وہی طریقہ درست اور فطری طریقہ ہے جس کو عام طور پر طے کردہ شادی (arranged marriage) کہا جاتا ہے۔ مگر اسلام کی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ شادی کے سلسلہ میں لڑکا اور لڑکی دونوں کی رضا مندی معلوم کرنا ضروری ہے۔ یہ بھی اسلام میں ایک پسندیدہ بات ہے کہ دونوں فریق شادی سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھیں اور بات کر کے پیشگی طور پر ایک دوسرے کا اندازہ کریں ۔ خاندان کے لوگ اگر رشتہ طے کرتے ہوئے اسلام کی اس تعلیم کا لحاظ رکھیں تو اس میں وہ تمام فائدے اپنے آپ شامل ہو جائیں گے جن کو محبت کی شادی کا فائدہ بتایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نکاح کا طریقہ معتدل اور فطری بھی ہے اور اسی کے ساتھ محبت والی شادی کی خصوصیات بھی اُس کے اندر پوری طرح شامل ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader