Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

نقشۂ امتحان عمر بن عبدالعزیز ایک اموی خلیفہ تھے۔ ان کی پیدائش 61 ھ میں مدینہ میں ہوئی اور وفات حمص میں 101 ھ میں ہوئی۔ وہ سلیمان بن عبد الملک کی ایک وصیت کے تحت خلیفہ مقرر ہوئے۔ ان کی متقیانہ زندگی اور ان کے عدل وانصاف کی بنا پر ان کو اسلام کی تاریخ میں پانچواں خلیفۂ راشد کہا جاتا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز بنوامیہ کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ خلافت سے پہلے ان کی زندگی ایک امیرانہ زندگی تھی۔ مگر خلیفہ بننے کے بعد انہوں نے آرام وراحت کی زندگی کو چھوڑ دیا اور نہایت سادہ زندگی اختیار کر لی۔ ان کی بیوی فاطمہ بنت عبد الملک خود بھی شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے پاس کافی زیور تھے جو شادی کے وقت ان کو اپنے میکہ کی طرف سے ملے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز نے خلیفہ ہونے کے بعد اپنی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک سے کہا کہ تم اپنے تمام زیورات کو بیت المال میں داخل کر دو ورنہ میں تم سے جدائی اختیار کر لوں گا۔ کیوں کہ مجھ کو یہ کس طرح گوارا نہیں کہ تم اور تمہارے زیورات اور میں تینوں ایک گھر میں رہیں ۔ ان کی بیوی اس پر بخوشی راضی ہو گئیں اور اپنے تمام زیورات جن میں وہ قیمتی موتی بھی تھا جو عبد الملک نے اپنی بیٹی کو دیا تھا سب بیت المال میں بھجوا دیا تا کہ وہ عوام کے مفاد کے لیے استعمال ہوں۔ فاطمہ بنت عبد الملک کا یہ واقعہ کوئی سادہ واقعہ نہیں ۔ یہ بلاشبہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ وہ کیا چیز تھی جس نے فاطمہ بنت عبد الملک کو اس پر راضی کیا کہ وہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے مذکورہ غیر معمولی فیصلے کو اتنی آسانی کے ساتھ قبول کر لیں ۔ یہ سبب وہ مخصوص تصور حیات تھا جو اسلام ہر عورت اور مرد کو عطا کرتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page