Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کے تصور کے مطابق، موجودہ دنیا کی زندگی ایک عارضی زندگی ہے۔ یہ عارضی زندگی انسان کو امتحان کے لیے دی گئی ہے۔ انسان کی اصل زندگی موت کے بعد دوسری دنیا میں شروع ہوتی ہے۔ موجودہ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے اور موت کے بعد کی دنیا عمل کا انجام پانے کی جگہ۔ موجودہ دنیا کی حیثیت سفر کی ہے اور اگلی دنیا کی حیثیت منزل کی۔ زندگی کا یہ تصور بے حداہم ہے۔ وہ موجودہ دنیا کے معاملہ کو ثانوی چیز بنا دیتا ہے اور اگلی دنیا کے معاملہ کو اولین چیز۔ اس تصور کے تحت آدمی کا یہ ذہن بنتا ہے کہ موجودہ دنیا کا نقصان عارضی نقصان ہے۔ اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ آدمی اگلی دنیا کے نقصان سے بچ جائے۔ یہ تصور کسی عورت یا مرد کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ آخرت کے انعام کی امید میں موجودہ دنیا کے کھونے کو برداشت کرلے۔ اس تصور کا تعلق جس طرح زندگی کے دوسرے معاملات سے ہے اسی طرح اس کا تعلق عورت اور مرد کی شادی شدہ زندگی سے بھی ہے۔ شادی شدہ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے کی طرف سے کوئی ناخوشگوار تجربہ پیش آتا ہے۔ ایک کو دوسرے کی طرف سے کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے۔ ایک کی امید میں دوسرے کے ساتھ پوری نہیں ہوتیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ صرف موجودہ دنیوی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہوں وہ ناخوش گوار تجربہ پیش آنے کے بعد برہم ہو جائیں گے، اس کے بعد وہ متعادل تعلقات کے قابل نہ رہیں گے۔ ان کی زندگی یا تو آہہوں اور آنسوؤں میں گزرے گی یا وہ تعلقات کو توڑ کر تنہائی کی زندگی اختیار کر لیں گے۔ اور دونوں ہی صورتیں یکساں طور پر انسان کے لیے تباہ کن ہیں، عورت کے لیے بھی اور مرد کے لیے بھی۔ اسلام کے تصور حیات کے مطابق، موجودہ دنیا کی زندگی امتحان کی زندگی ہے۔ وہ ہر ایک کے لیے امتحان ہے خواہ وہ بظاہر اچھی حالت میں ہو یا بری حالت میں۔ اس دنیا میں خوشی کی حالت بھی ایک امتحان ہے اور غم کی حالت بھی ایک امتحان۔ یہاں آرام بھی امتحان ہے اور تکلیف بھی امتحان۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page