Urdu book · عظمتِ اسلام

خدا کا وجود

Urdu book, p. 1

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ کائنات مسلسل ہمارے تجربہ میں آتی ہے ۔ اس میں پیش آنے والے واقعات کا ہم تجزیہ کرنے کی حیثیت میں ہیں ۔ اور انسان نے یہ سب کچھ بہت بڑے پیمانہ پر کیا بھی ہے۔ مگر آج تک کوئی بھی ایسی چیز دریافت نہ ہو سکی جو یہ ثابت کرے کہ کائنات بلا سبب بن گئی۔ یا یہ کہ وہ اپنی خالق آپ ہے ۔ ایسی حالت میں ہم مجبور ہیں کہ کائنات کا خالق کسی اور ہستی کو مانیں ، خود کائنات کو ہم اس کا خالق تسلیم نہیں کر سکتے۔ خدا اعیاناً ہمارے سامنے نہیں، اس لیے ایک شخص خدا کے وجود کے بارہ میں شک کر سکتا ہے۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی ۔ کیوں کہ خدا نہ دکھائی نہ دے تب بھی کائنات تو دکھائی دے رہی ہے ۔ کوئی شخص خدا کو مانے یا نہ مانے۔ وہ بہرحال کائنات کو ماننے پر مجبور ہے۔ ناقابل ذکر متشککین کے سوا کوئی نہیں جو کائنات کو تسلیم نہ کرتا ہو۔ ایسی حالت میں ہمارے سامنے یہ لازمی سوال ہے کہ کائنات اگر موجود ہے تو وہ کیسے وجود میں آئی ۔ گویا اگر ہم مذکورہ سوال کی بنا پر خدا کو نہ مانیں تب بھی اصل سوال سے بچنا ممکن نہیں۔ کیوں کہ پہلے اگر یہ سوال تھا کہ خدا کو کس نے بنایا تو اب یہ سوال ہے کہ کائنات کیسے بن کر تیار ہوئی۔ اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ ہمیں کسی نہ کسی کو خالق کے بغیر ماننا ہے۔ اگر ہم خدا کو موجود بالذات (self-existent) نہ مانیں تو اس کے بعد ہمیں کائنات کو موجود بالذات (self-existent) ماننا پڑے گا۔ اور کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات کو موجود بالذات ماننا ممکن نہیں۔ کیونکہ کائنات کے اندر تخلیقی صلاحیت کا کوئی ثبوت نہیں۔ یہ مسئلہ مجرد طور پر ماننے یا نہ ماننے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دو میں سے ایک کو انتخاب کرنے کا مسئلہ ہے۔ یہاں ہمارے لیے انتخاب باخدا کائنات اور بے خدا کائنات میں نہیں ہے بلکہ باخدا کائنات اور غیر موجود کائنات میں ہے۔ چونکہ ہم کائنات کو غیر موجود نہیں مان سکتے ، اس لیے دوسرا ممکن انتخاب ہمارے لیے صرف یہ ہے کہ ہم باخدا کائنات کا اقرار کریں ۔ ایک مشین کو ماننے کا سوال ہو تو آپ کے لیے انتخاب با انجینیئر مشین اور بے انجینیئر مشین کے درمیان نہیں ہوگا بلکہ با انجینیئر مشین اور غیر موجود مشین کے درمیان ہوگا۔ منطقی طور پر آپ غیر موجود مشین کا عقیدہ نہیں رکھ سکتے، اس لیے آپ مجبور ہیں کہ با انجینیئر مشین کو مانیں۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر کائنات کا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page