خدا کا وجود
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کا وجود برٹرینڈ رسل (۱۹۷۲-۱۸۷۲) ایک ملحد فلسفی تھا۔ اس نے اپنی کتاب میں کیوں مسیحی نہیں ہوں (Why I am not a Christian) میں لکھا ہے کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ جب میں نوجوان تھا اور میں اپنے ذہن میں خدا کے وجود کے مسئلہ پر بہت سنجیدگی کے ساتھ غور و بحث کرتا رہتا تھا، میں نے ایک عرصہ تک سبب اول کی دلیل کو مان لیا تھا۔ یہاں تک کہ ایک دن جب کہ میری عمر ۱۸ سال تھی، میں نے جان اسٹوارٹ مل کی آپ بیتی پڑھی۔ میں نے اس میں یہ عبارت دیکھی کہ ” میرے باپ نے مجھے بتایا کہ ” مجھ کو کس نے بنایا “ اس سوال کا جواب ممکن نہیں۔ کیوں کہ اس کے فوراً بعد دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ ” خدا کو کس نے بنایا “ اس سادہ سے جملہ نے مجھے بتایا، جیسا کہ اب بھی میں سوچتا ہوں کہ سبب اول کی دلیل ایک مغالطہ پر قائم ہے۔ اگر ہر چیز کا ایک سبب ہونا ضروری ہے تو خدا کے وجود کا بھی ایک سبب ہونا ضروری ہے۔ اور اگر کوئی چیز بغیر سبب کے ہوسکتی ہے تو دنیا بھی اسی طرح سبب کے بغیر ہو سکتی ہے جس طرح خدا۔ اس لیے اس دلیل میں کوئی معقولیت نہیں ہے : یہ استدلال صحیح نہیں۔ اس معاملہ میں اصل سوال سبب کا نہیں ہے بلکہ دو بے سبب میں سے ایک بے سبب کو ترجیح دینے کا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہم کائنات کو ماننے پر مجبور ہیں۔ مگر ہم جس کائنات کو مانتے ہیں وہ کائنات یہ ثابت نہیں کرتی کہ وہ اپنی خالق آپ ہے۔ اس مشکل کا واحد حل یہ ہے کہ ایک بے سبب خدا کو مانیں اور اس کو کائنات کا خالق سمجھیں۔ عقلی طور پر اس کے سوا کوئی اور جائز صورت ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader