وخاتم النبیین
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
وخاتم النبیین پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں : ولی رسول اللہ و خاتم النبیین (الاحزاب ۴۰) خاتم کے معنی عربی زبان میں وہی ہیں جس کے لیے انگریزی زبان میں سیل کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ ایک چیز ہے طابع یا مہر (Stamp) اور دوسری چیز ہے خاتم یا سیل (Seal) کسی چیز کو مستند قرار دینے کے لیے اس پر جو نشان لگایا جاتا ہے وہ طابع یا اسٹمپ ہے ۔ اور کسی چیز کو آخری اور محفوظ قرار دینے کے لیے اس پر جو چٹہ ڈالا جائے ، وہ خاتم یا سیل ہے ۔ اس آیت کے مطابق ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حیثیت یہ ہے کہ آپ رسول اللہ ہیں، اور دوسری حیثیت یہ ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ رسول اللہ ہونے کے اعتبار سے آپ اسی طرح خدا کے رسول ہیں جس طرح دوسرے تمام رسول ۔ مگر اسی کے ساتھ آپ کی ایک امتیازی حیثیت بھی ہے جو کسی اور رسول کو حاصل نہیں۔ وہ یہ کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ آپ پر نبیوں اور رسولوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا (خُتم بی النبیین) خاتم النبیین ہونے کا مطلب سادہ طور پر صرف یہ نہیں کہ آپ فہرست انبیاء کے آخری فرد ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آخری نبی ہونا اپنے ساتھ بہت سے نہایت اہم تقاضے رکھتا ہے۔ یہ تمام تقاضے آپ کے ادپر اپنی کامل ترین صورت میں پورے ہوئے ۔ اس کا ایک تقاضا یہ ہے کہ وحی خداوندی پوری طرح محفوظ ہو جائے ۔ اس میں کسی بھی قسم کی تحریف یا تبدیلی کا امکان باقی نہ رہے ۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا نہایت طاقتور انتظام فرمایا ہے۔ چنانچہ چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اب تک آپ کے لائے ہوئے دین میں کوئی تحریف نہ کی جاسکی ۔ قرآن آج بھی اسی طرح محفوظ حالت میں موجود ہے جیسا کہ وہ آپ کے زمانہ میں تھا۔ پیغمبر صرف پیغام رساں نہیں ہوتا ، اسی کے ساتھ وہ لوگوں کے لیے نمونہ عمل (Role model) بھی ہوتا ہے جس کو قرآن میں اسوہ (الاحزاب ۲۱) کہا گیا ہے ۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ ہر قسم کے حالات آپ کے اوپر گزریں تاکہ آپ ہر اعتبار سے ساری انسانیت کے لیے نمونہ بن سکیں چنانچہ سیرت اور حدیث کی کتابیں بتاتی ہیں کہ واقعہ ایسا ہی ہوا۔ آپ کی زندگی ہر قسم کے واقعات سے بھری ہوئی زندگی ہے۔ ہر صورت حال اور ہر موڑ کے لیے آپ کی زندگی میں نمونہ موجود ہے ۔ وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader