بائبل کی گواہی
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
بائبل کی گواہی حضرت موسیٰ مشہور اسرائیلی پیغمبر ہیں۔ ان کا زمانہ ۱۳-۱۴ ویں صدی قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔ اور اسلامی پیغمبر حضرت محمدؐ کا زمانہ ۵-۶ ویں صدی عیسوی ہے۔ یعنی دونوں کے درمیان تقریباً دو ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ حضرت موسیٰ کی کہی ہوئی جو باتیں موجودہ بائبل میں موجود ہیں ان میں سے ایک بات یہ ہے جو انھوں نے اپنے زمانہ کے اسرائیلیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہی : خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا ، تم اس کی سننا۔ یہ تیری اس درخواست کے مطابق ہوگا جو تو نے خداوند اپنے خدا سے مجمع کے دن حورب میں کی تھی کہ مجھ کو نہ تو خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سنی پڑے اور نہ ایسی بڑی آگ ہی کا نظارہ، ہوتا کہ میں مر نہ جاؤں۔ اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں۔ میں ان کے لیے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا۔ اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔ لیکن جو نبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اس کو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے ۔ اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ جو بات خداوند نے نہیں کہی ہے اسے ہم کیوں کر پہچانیں۔ تو پہچان یہ ہے کہ جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور اس کے کہے کے مطابق کچھ واقع یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں بلکہ اس نبی نے وہ بات خود گستاخ بن کر کہی ہے ۔ (Deuteronomy 18:15-22) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ کلام واضح طور پر ایک پیشین گوئی ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد میری ہی طرح کا ایک پیغمبر آنے والا ہے۔ حضرت موسیٰ کے بعد کی پوری تاریخ بتاتی ہے کہ صرف ایک ہی پیغمبر ہیں جو کہ مثل موسیٰ تھے۔ اور وہ محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ مسیحی حضرات اس پیشین گوئی کو حضرت مسیح پر چسپاں کرتے ہیں۔ حالاں کہ حضرت مسیح کسی بھی اعتبار سے مثل موسیٰ نہ تھے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader