Urdu book · عظمتِ اسلام

بائبل کی گواہی

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت موسیٰ ماں باپ کے ذریعہ فطری انداز میں پیدا ہوئے۔ جب کہ حضرت مسیح کی پیدائش فوق الفطری انداز میں ہوئی۔ حضرت موسیٰ نے ایک خاتون سے نکاح کیا، حضرت مسیح نکاح اور ازدواجی زندگی سے دور رہے۔ حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کی قیادت کی، حضرت مسیح کو اپنی قوم کا قائد بننے کا موقع نہیں ملا۔ حضرت موسیٰ پر شرعی قوانین اتارے گئے، حضرت مسیح پر شرعی احکام و قوانین نہیں اترے۔ حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو فرعون کی غلامی سے نکالا، حضرت مسیح کی آمد کے باوجود یہودی رومیوں کی ماتحتی ہی میں رہے۔ اس طرح کے مختلف و واضح فرق دونوں کے درمیان موجود ہیں۔ اس بنا پر حضرت مسیح کو موسیٰ کی مانند پیغمبر نہیں قرار دیا جا سکتا۔ یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے کہ خود غیر مسلم محققین نے اس کو تسلیم کیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مسیحی عالم جیمس ڈو (Rev. James L. Dow M.A) نے بائبل کی ڈکشنری لکھی ہے جس کو برطانی پبلیشر ہارپر کالنس (Harper Collins) نے ۴۰۴ صفحات پر شائع کیا ہے۔ میرے پاس اس کا ۱۹۹۲ کا ایڈیشن ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ تاریخ کا واحد شخص جو بعید طور پر موسیٰ کی مانند بتایا جا سکتا ہے وہ صرف محمد ﷺ ہیں : The only man of history who can be compared even remotely to him is Mahomet. (p. 403) Dictionary of the Bible, by Rev. James L. Dow M.A., Harper Collins Publishers, Glasgow, 1992 یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ تمام پیغمبروں میں صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ واحد پیغمبر ہیں جو ”مثل موسیٰ“ کہے جا سکتے ہیں۔ اس طرح بائبل کا یہ کلام آپ کے حق میں بائبل کی کھلی ہوئی تصدیق ہے۔ مذکورہ حوالہ اس کے اوپر ایک مسیحی عالم کی گواہی کی حیثیت رکھتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ عین یہی بات متراً آن میں بھی مکی دور میں نازل ہوئی۔ قرآن میں یہ بات اس طرح کہی گئی ہے کہ ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے، تم پر گواہ بنا کر، جیسا کہ ایک رسول ہم نے فرعون کی طرف بھیجا تھا (المزمل ۱۵) اس آیت میں کما أرسلنا إلى فرعون رسولا کے الفاظ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو بائبل میں مذکور ہے۔ اس اعتبار سے قرآن کا بیان دلائل نبوت میں سے ایک دلیل ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page