ثابت شدہ حقیقت
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
ثابت شدہ حقیقت بائبل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”نبی غلبہ“ کہا گیا ہے۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے : ” وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں، اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کیے بغیر ماننے والا نہیں، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اس کو ہر دین پر غالب کر دے، خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔“ (التوبہ ۳۳-۳۲ ، الصف ۹-۸) یہ کہنا صحیح ہو گا کہ یہ آیت پورے قرآن کی مرکزی آیت ہے، اس کو سمجھنا گویا پورے قرآن کو سمجھنا ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ تفصیل کے ساتھ اس پر غور کیا جائے ۔ یہاں نور اللہ (اللہ کی روشنی) سے مراد وہی چیز ہے جس کو اگلے فقرہ میں ہدایت اور دین حق کہا گیا ہے۔ دنیا میں بہت سے نظامات ہیں جن کو ”دین“ کہا جاتا ہے۔ مگر یہ تمام دین یا تو دین محرف ہیں یا دین باطل۔ ان کے مقابلہ میں پیغمبر اسلام جو چیز لے کر آئے ہیں وہ ہدایت بھی ہے اور دین بھی۔ اسی لیے وہ دین حق ہے۔ وہ خدا کا سچا دین ہے جس میں کوئی غلط بات نہیں ۔ اللہ کا جو مطلوب دین (نور) ہے اس کو اس نے ہر زمانہ میں اپنے پیغمبروں کے ذریعہ بھیجا۔ مگر ہر بار یہ ہوا کہ پیغمبر کی زبان سے اس کا اعلان تو ہو گیا مگر وہ ایک ثابت شدہ سچائی کے طور پر قائم نہ ہو سکا ۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے بھیجے گئے کہ وہ نہ صرف خدا کے سچے دین کا مکمل اعلان کریں بلکہ اسی کے ساتھ اس کو ایک ثابت شدہ حقیقت بنا دیں۔ دین کو ثابت شدہ حقیقت بنانے سے کیا مراد ہے، اس کو سمجھنے کے لیے ایک متوازی مثال لیجیے۔ یہ مثال ڈیمو کریسی (جمہوریت) کی ہے۔ ڈیمو کریسی کی اصل یونانی ہے جو دو لفظوں کا مرکب ہے Demos بمعنی عوام Kratein بمعنی حکومت کرنا۔ یعنی عوامی حکومت ۔ ڈیمو کریسی کا تخیل اب سے تقریبا پانچ ہزار سال پہلے قدیم یونان کے فلسفیوں کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔ شہری سطح پر اس کے محدود مقامی تجربے بھی کیے گئے ۔ مگر ڈیمو کریسی کئی ہزار سال تک صرف ایک ایسے سیاسی اصول کی حیثیت رکھتی تھی جس کا اعلان کر دیا گیا ہو۔ مگر وہ لوگوں کے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader