ثابت شدہ حقیقت
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مسلمہ حقیقت یا ثابت شدہ سچائی زینہ بن ہو۔ فرانس کے انقلاب (۱۷۸۹) کے بعد ایسا ہوا کہ ڈیوکریسی ایک مانی ہوئی حقیقت بن گئی۔ حتیٰ کہ اب ایک ڈکٹیٹر بھی اپنی ڈکٹیٹری چلاتا ہے تو ڈیوکریسی کے نام پر چلاتا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعہ دنیا میں جو انقلاب آیا ، اس نے خدا کے دین کو ایک ثابت شدہ حقیقت بنا دیا ہے۔ اب خدا کا دین ایک مسلمہ تاریخی واقعہ ہے نہ کہ محض ایک مذہبی مفروضہ ۔ پیغمبروں نے اعلان کیا کہ خدا ایک ہے۔ مگر انسان چونکہ دنیا کو مختلف اشیاء اور مظاہر کے روپ میں دیکھتا تھا، اس کو یہ یقین کرنا مشکل ہوگیا کہ اس دنیا کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس نے دیکھا کہ دنیا میں کئی طرح کی چیزیں موجود ہیں، اس لیے اس نے یقین کر لیا کہ خدا بھی در کئی ہوگا۔ مگر سائنسی انقلاب جو اسلامی انقلاب کے اثر سے ظاہر ہوا ۔ اس نے غلط فہمی کی اس بنیاد کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ سائنس نے یہ ثابت کیا کہ دنیا کی چیزیں بظاہر دیکھنے میں اگرچہ بہت قسم کی دکھائی دیتی ہیں، مگر آخری تجزیہ میں سب کی سب ایک ہیں۔ سب کا آخری جز ء ایٹم ہے اور ایٹم برقی لہروں سے تشکیل پاتا ہے۔ اس طرح ثابت ہو گیا کہ کائنات کی مختلف چیزوں کی ترکیب ایک ہی چیز سے ہوئی ہے ۔ اور جب تمام مخلوقات کی اصل ایک ہے تو یہ عین فطری ہے کہ سب کا خالق بھی ایک ہو۔ ہزاروں سال سے انسان یہ سمجھتا تھا کہ وہ فلسفہ یا علمی مطالعہ کے ذریعہ زندگی کی حقیقت دریافت کر لے گا۔ اور کسی نبی کی ضرورت نہ ہوگی جو اس کو حقیقتِ حیات کے بارہ میں بتائے۔ مگر جدید سائنسیں ترقیوں کے بعد علم انسانی جہاں پہنچا ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی محدودیت کی وجہ سے کبھی بھی اس قابل نہیں ہو سکتا کہ تمام حقائق کو یا حقیقت کی آخری صورت کو دریافت کر لے۔ اس طرح خود علم انسانی کے ذریعہ یہ ثابت ہو گیا کہ انسان حق کی واقفیت کے لیے خدا کے پیغمبر کا محتاج ہے۔ کیوں کہ خود اپنی تلاش سے وہ حق کی دریافت تک نہیں پہنچ سکتا۔ شداد کی قسم کے بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ وہ اس دنیا میں اپنی جنت بنا سکتے ہیں، انھیں آخرت کی جنت کی کوئی ضرورت نہیں۔ مگر جدید ترقیوں نے اس مزعومہ کی تردید کر دی۔ موجودہ زمانہ میں ہر قسم کی آرام و آرائش کی چیزیں تیار ہوگئیں، مگر راحت کے جدید ترین سامانوسے ، بھرا ہوا شہر تعمیر کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ انسان اب بھی اتنا ہی بے چین ہے جتنا کہ وہ پہلے تھا۔ انسان آخرت کی جنت ہی میں سکون حاصل کر سکتا ہے۔ دنیا کی جنت اس کے لیے سکون کا مقام نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader