تاریخی تصدیق
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخی تصدیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ للعالمین تھے۔ آپ نے دنیا کو امن کی طاقت سے روشناس کیا اور عملاً اس کو برت کر دکھا دیا۔ آپ کی شخصیت کا یہ پہلو آپ کی رسالت کا ایک عظیم تاریخی ثبوت ہے۔ تاریخ میں ہمیشہ یہ فکر پایا گیا ہے کہ طاقت حق ہے (might is right) یہی اصول ہندوستانی زبان میں اس طرح مشہور ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ ہر زمانہ کا انسان یہ سمجھتا رہا ہے کہ کسی مقصد کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ متشد دانہ طاقت ہے۔ کارل مارکس نے اس نظریہ کو بڑھا کر ایک پورا فلسفہ بنایا۔ اس نے کہا کہ دنیا کی ترقی کا سفر ہمیشہ تشدد کے ذریعہ طے پاتا ہے۔ اس کے اس نظریہ کو جدلیاتی مادیت کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق ، ہر دور اپنی آخری حد پر پہنچ کر اپنا ضد یا اپنا عدو ظاہر کرتا ہے۔ یا مارکس کے الفاظ میں ہر تھیس بالآخر اپنا اینٹی تھیس پیدا کرتا ہے۔ اس اینٹی تھیس اور تھیس کے درمیان متشددانہ ٹکراؤ پیش آتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں تھیس مٹ جاتا ہے اور اینٹی تھیس باقی رہتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں نجی ملکیت پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام نے اسی طرح بے ملکیت مزدوروں کو پید کیا ہے۔ یہ مزدور طبقہ سرمایہ دارانہ تھیس کا اینٹی تھیس ہے۔ اب قانون فطرت کے تحت دونوں میں ٹکراؤ پیش آئے گا۔ آخر کار سرمایہ دارانہ نظام ختم ہوگا اور مزدور طبقہ کا دور تاریخ میں شروع ہو جائے گا۔ مارکس کے نزدیک یہ تبدیلی صرف تشدد کے ذریعہ آسکتی تھی۔ اسٹالن نے اس نظریہ کی تشریح کرتے ہوئے ایک بار کہا تھا کہ ہم کو مزدور انقلاب لانے کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ اول اسلحہ، دوم اسلحہ، سوم اسلحہ، اور آخر میں پھر اسلحہ۔ تشدد کا یہی فلسفہ تھا کہ، ۱۹۱۷ میں جب روس میں کمیونسٹ انقلاب آیا تو وہاں کی حکومت نے اپنے وسائل کا سب سے بڑا حصہ ہتھیاروں کی تیاری میں لگا دیا۔ چنانچہ ، ۷ سال عمل کے بعد وہ ہتھیاروں کے اعتبار سے سپر پاور بن گیا۔ کمیونسٹ روس کے اس متشددانہ منصوبہ کی زد سب سے زیادہ امریکہ پر پڑتی تھی جو سرمایہ دارانہ نظام کا چینپن بن کر ابھرا تھا۔ چنانچہ اس کے جواب میں امریکہ نے بھی خطرناک ہتھیاروں کی تیاری کی مہم پوری طاقت کے ساتھ شروع کر دی۔ ہتھیاروں کی اس دوڑ کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں کے پاس اتنے زیادہ ہتھیار جمع ہو گئے کہ ان میں سے ہر ایک ساری دنیا کی آبادی کو پانچ ہزار بار ہلاک کر سکتا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader