تاریخی تصدیق
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر ہتھیاروں کی اس غیر معمولی فراہمی کے باوجود نہ روس نے اپنا ہتھیار امریکہ کے خلاف استعمال کیا اور نہ امریکہ نے اپنا ہتھیار روس کے خلاف۔ اس کے بجائے یہ ہوا کہ ۱۹۹۱ میں دونوں ملکوں نے باہم یہ معاہدہ کر لیا کہ وہ کبھی ایک دوسرے کے خلاف جنگی اقدام نہیں کریں گے اور اپنے دور مار ہتھیاروں کا ۳۳ فی صد حصہ ضائع کر دیں گے۔ ایسا کیوں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بے پناہ دولت خرچ کرنے کے بعد جب خطرناک ہتھیاروں کا ڈھیر جمع ہو گیا تو معلوم ہوا کہ عملاً وہ ناقابلِ استعمال ہے۔ کیوں کہ روس اگر اپنے میزائلوں کو امریکہ کے نشانوں پر پھینکے تو عین اسی وقت امریکہ کے میزائل بھی روس کے نشانوں پر روانہ ہو چکے ہوں گے۔ اس طرح جنگ چھڑنے کے ابتدائی چند گھنٹوں میں ہی دونوں ملک راکھ کا ڈھیر بن جائیں گے۔ مزید یہ کہ اس جنگ میں جیتنے والا بھی بدترین ہار سے دوچار ہوگا۔ کیوں کہ جدید جنگ پانی اور ہوا اور فضا کو اتنا زیادہ بگاڑ دے گی کہ اس کے بعد زمین پر انسان جیسی مخلوق کا بسنا ہی نا ممکن ہو جائے۔ روس اور امریکہ کے اس تجربہ نے آخری طور پر ثابت کر دیا ہے کہ جنگ اور تشدد کا طریقہ آخری حد تک بے فائدہ طریقہ ہے۔ جنگ اور تشدد کے ذریعہ نہ دنیا میں کوئی تعمیری انقلاب لایا جا سکتا اور نہ کسی انسانی مسئلہ کو حل کیا جا سکتا۔ موجودہ زمانہ کے اس تجربہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو نئے عنوان سے ثابت شدہ بنا دیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مقصد کے حصول کے لیے مبنی پر دعوت (dawah-based) طریقہ کو سب سے اعلیٰ طریقہ بتایا تھا۔ اس کے بعد کارل مارکس جیسے منکرین اٹھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مقصد کے حصول کے لیے مبنی بر تشدد (violence-based) طریقہ سب سے زیادہ کارگر طریقہ ہے۔ مگر جدید حقائق حیرت انگیز طور پر پیغمبر اسلام کی رہنمائی کی تصدیق کہہ رہے ہیں۔ اور انھوں نے مارکس جیسے منکرین کے نظریہ کو سراسر باطل ٹھہرایا ہے۔ اس طرح خالص تاریخی تجربہ کی روشنی میں یہ ثابت ہوا ہے کہ پیغمبر اسلام کی رہنمائی الہامی رہنمائی تھی۔ اور دوسرے تمام لوگوں کے نظریات محدود انسانی ذہن کی پیداوار تھے جو حقائق کا سامنا پیش آنے کے بعد حرف غلط ثابت ہو گئے۔ پیغمبر اسلام کا پیغام صدیاں گزرنے کے بعد بھی اپنی صداقت کو مسلسل باقی رکھے ہوئے ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader