پیغمبر کا طریقِ کار
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر کا طریقِ کار امام البخاری نے اپنی صحیح میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت مختلف ابواب کے تحت نقل کی ہے۔ باب اقامۃ الحدود والانتقام لحرمات اللہ کے الفاظ یہ ہیں : ما خير النبي صلى الله عليه وسلم بين رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو میں سے أمرين إلا اختار أيسرهما۔ ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان (فتح الباری بشرح صحیح البخاری (۸۶/۱۲) کا انتخاب فرماتے۔ اس سے معاملات زندگی کے بارہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک نہایت اہم سنت معلوم ہوتی ہے۔ وہ سنت ، مذکورہ روایت کے مطابق ، اختیار ایسرہے۔ یعنی موجود انتخابات کو لے لینا اور مشکل (easier option) میں نسبتاً آسان انتخاب (available options) کو چھوڑ دینا۔ (harder option) انتخاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی اصول پر مبنی تھی۔ آپ نے کبھی اس اصول کے خلاف عمل نہیں فرمایا۔ مثلاً قدیم مکہ میں ایک انتخاب یہ تھا کہ کعبہ کے اندر سے بتوں کو نکالنے کے لیے اقدام کیا جائے ، دوسرا انتخاب یہ تھا کہ لوگوں کے دلوں سے شرک کو نکالنے کی کوشش کی جائے۔ آپ نے دوسرے انتخاب کو لے لیا، کیوں کہ پہلا انتخاب اس وقت سخت مشکل تھا۔ مکی دور کے آخر میں ایک انتخاب یہ تھا کہ آپ تمام اہل ایمان کو جمع کر کے مشرکین مکہ سے لڑ جائیں ، دوسرا انتخاب یہ تھا کہ آپ مکہ چھوڑ کر دوسری بستی میں چلے جائیں۔ آپ نے دوسرے انتخاب کو لے لیا، کیوں کہ پہلا انتخاب نہ زیادہ مشکل تھا۔ حدیبیہ کے موقع پر ایک انتخاب یہ تھا کہ زبردستی مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کریں ، دوسرا انتخاب یہ تھا کہ واپس لوٹ کر مدینہ چلے جائیں۔ آپ نے دوسرے انتخاب کو لے لیا، کیوں کہ پہلا انتخاب سخت دشوار تھا۔ یہی معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کا ہے۔ آپ نے ہمیشہ اختیار ایسر کے اصول پر عمل فرمایا ہے ، آپ نے کبھی اختیار اعسر کو اپنا طریقہ نہیں بنایا۔ اس سنت رسول میں بے شمار دینی اور دنیا دی فائدے چھپے ہوئے ہیں۔ یہ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader