غیرمسلموں کے ساتھ شرکت
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
غیرمسلموں کے ساتھ شرکت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل مکہ میں ظلم و زیادتی کے کچھ واقعات ہوئے مثلاً یمن کے قبیلہ زبید کا ایک آدمی مکہ آیا۔ اس نے عاص بن وائل کے ہاتھ کچھ سودا فروخت کیا۔ عاص نے اس کی قیمت ادا کرنے میں بے انصافی کی۔ یمنی تاجر نے کچھ اشعار کہے اور ان میں اپنی مظلومیت پر فریاد کی۔ اس طرح یہ معاملہ لوگوں کے درمیان مشہور ہوگیا۔ اس وقت کر میں عبد اللہ بن جدعان الیمی عزت اور بڑائی والا آدمی سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ قریش کے کئی لوگ اس کے مکان پر جمع ہوئے ۔ ان لوگوں نے عاص بن وائل کے فعل پر اس کی سخت مذمت کی۔ اور پھر سب نے پختہ عہد کیا کہ وہ اس طرح کا واقعہ مکہ میں برداشت نہیں کریں گے۔ اور اگر ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو وہ مظلوم کا ساتھ دیں گے ، اور ظالم کو مجبور کریں گے کہ وہ مظلوم کو اس کا واقعی حق ادا کرے۔ اس عہد کو حلف الفضول کہا جاتا ہے۔ اس کا یہ نام اس لیے پڑا کہ اس میں انھوں نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ وہ مال کو اس کے حق دار کی طرف لوٹائیں گے (لا نهم تحالفوا على أنهم يردون الفضول الى اهلها ) طلحہ بن عبد اللہ بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبد اللہ بن جدعان کے گھر پر جو عہد کیا گیا، میں اس عہد میں موجود تھا۔ اس کے بدلے میں سرخ اونٹوں کے ملنے کو بھی میں پسند نہیں کروں گا۔ اور اگر اسلام میں بھی اس کے لیے مجھے بلایا جائے تو میں ضرور اس پر لبیک کہوں گا (لقد شهدتُ في دارِ عبدِ اللهِ جُدُعانَ حِلفاً ما أحبُّ أنَّ لي بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ - ولو أُدعَى بِهِ فِي الاسلامِ لأَجَبْتُ) سيرة النبي لابن هشام ۱۴۵/۱ اس معاملے کے ساتھ جو لوگ وابستہ تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر سب کے سب غیر مسلم تھے۔ سودا بیچنے والا بھی غیر مسلم، خریدنے والا بھی غیر مسلم۔ بد معاملگی کے بعد مذکورہ معاہدہ میں شریک ہونے والے بھی سب کے سب غیر مسلم۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں شرکت فرمائی اور نبوت کے بعد اس شرکت کی تصدیق بھی کر دی۔ اور بوقتِ ضرورت دوبارہ اس میں شرکت کے لیے آمادگی ظاہر فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ سماجی بھلائی کے کاموں میں غیرمسلموں کے ساتھ شرکت عین درست ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader