عظمتِ اسلام
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
اور اسلام کا ایک مطلوب کام ہے۔ اس طرح کے کاموں میں مسلم اور غیر مسلم کی تمیز کیے بغیر پوری طرح حصہ لینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ نقطہ آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ۵۷۰ء میں مکہ میں پیدا ہوئے ۔ ۶۳۲ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ نبوت ملنے کے بعد ۶۱۰ء میں آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلی وحی نازل ہوئی۔ آپ کو نبوت دینا گویا آپ کو اصلاح انسانیت کے کام پر مامور کرنا تھا۔ اس وقت کے مکہ کو دیکھیے تو وہاں مختلف قسم کی برائیاں پائی جاتی تھیں۔ مثلاً کعبۃ اللہ کے اندر ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ لوگ جوا، شراب، زنا جیسے جرائم میں مبتلا تھے۔ رومی ایمپائر اور ایرانی ایمپائر نے عرب میں سیاسی نفوذ قائم کر رکھا تھا۔ وہ عربوں کو اپنا غلام سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایرانی حکمراں کسریٰ کے نام دعوتی مکتوب روانہ فرمایا تو اس کو اس نے گستاخی پر محمول کیا اور کہا کہ وہ مجھے خط لکھتا ہے، حالاں کہ وہ میرا غلام ہے (یکتب الی بهذا وهو عبدی) السیرۃ النبویہ لابن کثیر ۵۰۸/۳ اگر یہ چیزیں اولین اہمیت کی ہوتیں یا انہیں برائیوں کے خلاف اصلاحی مہم سے کار نبوت کا آغاز مطلوب ہوتا تو قرآن میں سب سے پہلے اس مفہوم کی آیتیں اترتیں : طہر الکعبۃ من الاصنام کعبہ کو بتوں سے پاک کرو اقم حدود اللہ علی المجرمین خدا کے احکام کو مجرموں کے اوپر نافذ کرو قاتل الفرس والرومان ایرانیوں اور رومیوں سے جنگ کرو مگر دور اول میں اس قسم کی کوئی آیت قرآن میں اتاری نہیں گئی۔ اس کے بجائے پہلا حکم قرآن میں یہ اترا کہ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تم کو پیدا کیا۔ جس نے انسان کو علق سے پیدا کیا۔ پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے علم سکھایا قلم سے ۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا تھا (اقرأ باسم ربك الذي خلق ۔ خلق الإنسان من علق ۔ اقرأ وربك الأكرم ۔ الذي علم بالقلم ۔ علم الإنسان ما لم يعلم) اس سنت رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اصلاحی عمل کا نقطہ آغاز کیا ہے۔ وہ ہے علم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader