Urdu book · عظمتِ اسلام

نقطہ آغاز

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

کا حصول ، لوگوں کو باشعور بنانے کی جدوجہد ۔ ماحول میں خواہ کتنی ہی زیادہ عملی برائیاں موجود ہوں ۔ خواہ مقدس کعبہ کو بتوں سے گندا کیا جا رہا ہو ۔ خواہ بیرونی طاقتیں سیاسی غلامی کا جال بچھائے ہوئے ہوں ۔ خواہ لوگ سنگین قسم کے جرائم میں ملوث ہوں ۔ مگر اس قسم کی تمام برائیوں پر صبر کرتے ہوئے ساری طاقت صرف ایک کام پر صرف کی جائے گی ، اور وہ علم و دانش کا حصول ہے ۔ ” اقراء “ کی آیت ہمیشہ کے لیے متعین کر رہی ہے کہ اسلامی عمل کا نقطۂ آغاز کیا ہے۔ اسلامی عمل کا نقطۂ آغاز قرآت ہے ۔ یعنی پڑھنا اور پڑھانا ۔ جذباتی اقدام نہیں مکہ کے دور اول میں مسلمان چھپ کر عبادت کرتے تھے اور انفرادی انداز میں خاموشی کے ساتھ تبلیغ کرتے تھے ، حضرت ابو بکر رض نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم اظہار کریں گے۔ اس وقت مکہ میں ۳۸ مسلمان تھے ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار واعلان کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابو بکر ہم تھوڑے ہیں ( یا ابا بکر انا قلیل) حضرت عمر رض نے اسلام قبول کیا تو مسلمانوں کی تعداد چالیس سے اوپر ہوگئی ۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم حق پر ہیں۔ پھر ہم کیوں اپنے دین کو چھپائیں۔ ہم کو اظہار کی اجازت دیجئے ۔ آپ نے دوبارہ فرمایا کہ اے عمر ہم تھوڑے ہیں ( یا عمر انا قلیل) حیاۃ الصحابہ ۱ / ۲۸۰ - اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جذباتی اقدام کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے مطابق نہیں۔ رسول اللہ کی سنت یہ ہے کہ عملی اقدام ہمیشہ حالات کے مطابق کیا جائے۔ افراد یا وسائل کی کمی کی بنا پر اگر چہ اندیشہ ہو کر اقدام کا مفید نتیجہ برآمد نہیں ہو گا تو صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔ اور عملی اقدام کے لیے اس وقت کا انتظار کرنا چاہیے جبکہ حالات اس کے لیے سازگار ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت یہ کہہ کر اقدام سے روکا کہ ہم تھوڑے ہیں، اس وقت بھی آپ مکمل طور پر اسلام کے کام میں مصروف تھے ۔ اس وقت آپ کی کوششوں کا دائرہ تھا دعا ، عبادت ، تربیت ، انفرادی تبلیغ ۔ وغیرہ ۔ جو لوگ اظہار کی اجازت چاہتے تھے وہ اس دائرہ سے آگے بڑھ کر عملی اقدام کے مرحلہ میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ مگر عملی اقدام کا تعلق صرف جوش سے نہیں ہے بلکہ حقیقی عملی حالات سے ہے۔ عملی اقدام اس وقت کیا جائے گا جب کہ اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page