Urdu book · عظمتِ اسلام

عظمتِ اسلام

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

نتیجہ خیز ہونے کی امید ہو۔ بصورتِ دیگر صرف پہلے دائرہ میں اپنے کام کو محدود رکھا جائے گا۔ مسئلہ بننے سے پر ہیز ابو طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ انھوں نے اگر چہ اسلام قبول نہیں کیا۔ مگر وہ آخر عمر تک آپ کی حمایت کرتے رہے۔ ابو طالب کی وفات کے بعد قدیم قبائلی نظام کے تحت ضرورت تھی کہ آپ اپنے لیے کوئی اور حامی تلاش کریں۔ چنانچہ آپ مختلف قبائل کے سرداروں سے ملے۔ حج کے موسم میں عرب کے قبیلے کہ آتے تھے۔ آپ نے اس اجتماع کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اس سلسلہ میں آپ نے جن قبائل سے ملاقات کی ان میں سے ایک قبیلہ بنی کعب تھا۔ آپ سوقِ عکاظ میں ان سے ملے۔ ابتدائی تعارفی گفتگو کے بعد آپ نے ان سے کہا : انی رسول اللہ ۔ فإن اتیتکم تمنعونی میں اللہ کا رسول ہوں۔ پس اگر میں تمہارے پاس حتی ابتلغ رسالۃ ربی ۔ ولم آکرہ آؤں تو کیا تم میری پشت پناہی کرو گے تا کہ احداً منکم علی شیئ ۔ میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں ۔ اور میں تم میں (حياة الصحابة (1/ ۹۵) سے کسی کو (اس کے علاوہ) مزید کسی چیز پر مجبور نہ کروں گا۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ میں تمہارے درمیان ایک بے مسئلہ انسان (no-problem man) بن کر رہوں گا۔ میرا کام صرف یہ ہو گا کہ پڑ امن طور پر لوگوں کو توحید کی دعوت دوں ۔ دوسرے سماجی یا قبائلی یا سیاسی معاملات میں میں کوئی دخل نہیں دوں گا۔ آخری حد تک میری یہ کوشش ہوگی کہ میں تمہارے لیے کسی مسئلہ کا باعث نہ بنوں۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ داعی جس ماحول میں رہے وہاں وہ پر امن داعی بن کر رہے۔ وہ ہر گز لوگوں کے لیے مسئلہ نہ بنے ۔ ظلم کے باوجود دعا مکہ میں جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ایمان لائے ان میں سے ایک طفیل بن عمر و الدوسی ہیں۔ ان کا تعلق قبیلہ دس سے تھا۔ وہ کعبہ کی زیارت کے لیے مکہ آئے۔ یہاں آپ کی زبان سے اللہ کا کلام سنا اور آپ سے باتیں کیں ۔ اس کے بعد وہ متاثر ہو گئے اور اسلام قبول کر لیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page