Urdu book · عظمتِ اسلام

مسئلہ بننے سے پر ہیز

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے قبیلہ میں واپس جاکر انھوں نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ مگر ان کی بیوی کے سوا کسی نے اسلام قبول نہیں کیا۔ حتیٰ کہ قبیلہ کے لوگوں نے حضرت طفیل کے ساتھ سختیاں کیں۔ وہ بددل ہو کر دوبارہ کہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے قبیلہ کی شکایت کی۔ انھوں نے کہا کہ میرا قبیلہ سرکش ہو گیا ہے، اس لیے آپ اس کے خلاف بد دعا کیجئے۔ آپ نے ہاتھ اٹھا کر قبیلہ کے حق میں دعا کی اور فرمایا : اَللهُمَّ اهْدِ دَوْسَا۔ اِرْجِعْ اِلَى قَوْمِكَ اے اللہ قبیلہ دوس کو ہدایت دے۔ تم اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ اور انھیں دعوت دو۔ اور فَادْعُهُمْ وَارْفُقْ بِهِمْ - ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو۔ (سيرة النبي لابن هشام ۴۰۹/۱) اس کے بعد طفیل بن عمر و اپنے قبیلہ میں واپس آئے اور دوبارہ نرمی اور حکمت کے ساتھ لوگوں کو اسلام کی طرف بلانا شروع کیا۔ ہجرت کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے مدینہ آئے تو اہل قبیلہ کی اکثریت اسلام میں داخل ہو چکی تھی۔ حضرت ابو ہریرہؓ کا تعلق بھی اسی قبیلہ دوس سے تھا۔ اس سے اسلام کے داعی کا کر دار معلوم ہوتا ہے ۔ داعی ہمیشہ اپنے مدعو کا خیر خواہ ہوتا ہے، خواہ مدعو اس کے ساتھ ظلم کرے۔ داعی ایک طرف طور پر مدعو کی زیادتیوں پر صبر کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ اس کے حق میں اچھی دعائیں کرتا ہے۔ وہ مایوس ہوئے بغیر اس کی ہدایت کی حکیمانہ کوشش کرتا رہتا ہے۔ مدعو کے سلوک سے بے پروا ہو کر داعی ہر حال میں اس کا خیر خواہ بنا رہتا ہے۔ آخری حد تک خیر خواہ ابو طالب کی وفات کے بعد مکہ کی زمین آپ کے لیے بہت سخت ہو گئی۔ آپ اپنے حامی کی تلاش میں طائف گئے جو کہ کے جنوب مشرق میں تقریباً ۷۵ میل پر واقع تھا۔ آپ نے وہاں کے سرداروں عبد یالیل، مسعود اور حبیب سے ملاقات کی اور ان کو توحید کی دعوت پیش مگر تینوں نے آپ کے ساتھ نہایت برا برتاؤ کیا۔ حتیٰ کہ یہ کہا کہ کیا اللہ کو تمہارے سوا کوئی اور آدمی نہیں ملتا تھا جس کو وہ اپنا رسول بنائے ۔ آخر میں انھوں نے کچھ لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا جنھوں نے پتھر مار مار کر آپ کو شہر سے باہر نکال دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page