عظمتِ اسلام
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ زخمی ہو گئے ۔ آپ کے جسم سے خون بہہ کر پاؤں کی ایڑی تک پہنچ گیا ۔ اس حال میں آپ نے رات کے وقت راستہ کے ایک باغ میں پناہ ملی ۔ ابھی آپ طائف اور مکہ کے درمیان تھے کہ اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ آپ کے پاس آیا ۔ اس نے کہا کہ میں ملک الجبال (پہاڑوں کا فرشتہ) ہوں۔ مجھ کو اللہ نے بھیجا ہے ۔ اگر آپ حکم دیں تو میں طائف کی بستی کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس ڈالوں ۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو ان کے جیسے نہ ہوں گے۔ وہ ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی شریك نہ ٹھہرائیں گے (السیرۃ النبویہ لابن کثیر ٢ / ۵۳ - ۱۵۲) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری حد تک لوگوں کے خیر خواہ تھے۔ حتی کہ موجودہ نسل اگر آپ پر ظلم کر رہی ہو تو آپ اس کی ہلاکت کے خواہش مند نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ یہ امید رکھتے تھے کہ ان کی اگلی نسل ان سے مختلف ہوگی اور وہ سچائی کا اعتراف کرکے اس کا ساتھ دے گی۔ دعوت دراصل انسانوں کے لیے خیر خواہی کا نام ہے۔ اور جس دل میں دوسروں کے لیے خیر خواہی ہو وہ ہر حال میں دوسروں کا بھلا چاہے گا ، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ بظاہر وہ داعی کے دشمن بن گئے ہوں ۔ داعی ایک طرفہ حسن اخلاق کا پابند ہوتا ہے۔ داعی اپنا انعام اپنے رب سے پانے کا امید وار ہوتا ہے ، اس لیے مدعو کی زیادتی اُس کو اس پر آمادہ نہیں کرتی کہ وہ اس کے نقصان کے درپے ہو جائے ۔ جہاں مشکل ہے وہیں آسانی بھی ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں تقریباً ۱۳ سال تک دعوتِ توحید کا کام کیا۔ وہاں کے کچھ افراد ایمان لائے۔ مگر اکثریت منکر بنی رہی۔ آخر میں اہل مکہ کو آپ سے اتنی دشمنی ہوگئی کہ وہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر طرح کا عذاب دینے لگے۔ حتیٰ کہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس وقت قرآن میں یہ آیت اتری کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے ، مشکل کیسا تھ آسانی ہے (فان مع العسر یسراً ، ان مع العسر یسراً) اس ہدایت کا مطلب یہ تھا کہ مکہ میں اگر مخالفت کا سامنا ہے تو اس سے دل نہ ہو۔ اس دنیا میں اگر کچھ لوگ مخالفت کرتے ہیں تو کچھ اور لوگ موافقت کرنے والے بھی مل جاتے ہیں۔ چنانچہ نئی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس کے بعد کچھ مسلمان مدینہ بھیجے گئے تاکہ اندازہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader