Urdu book · عظمتِ اسلام

عظمتِ اسلام

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو کہ مدینہ کے لوگوں کی طرف سے کس قسم کا جواب ملے گا۔ یہ لوگ جو مدینہ گئے وہ مقری کے جاتے تھے۔ یعنی قرآن پڑھ کر سنانے والے۔ یہ تجربہ نہایت کامیاب رہا۔ بہت کم عرصہ میں مدینہ کے گھر گھر میں اسلام پھیل گیا۔ دونوں بستیوں میں اس فرق کا سبب یہ تھا کہ مکہ والوں کے لیے شرک اقتصادی مفاد کا مسئلہ تھا۔ مکہ میں زراعت وغیرہ نہیں تھی۔ ان کی معاشیات کا انحصار ان زائرین کے اوپر تھا جو سال بھر کعبہ کی زیارت کے لیے آتے تھے۔ وہ کعبہ پر نذر و نیاز بھی چڑھاتے تھے اور ان کی وجہ سے مکہ کی تجارت فروغ پاتی تھی جس طرح آجکل سیاحتی ملکوں میں وہاں کی تجارت سیاحوں کے ذریعہ فروغ پاتی ہے۔ مگر مدینہ والے اس ذہنی پیچیدگی سے آزاد تھے۔ ان کے یہاں پانی اور زرخیز زمین موجود تھی۔ چنانچہ وہ کامیابی کے ساتھ زراعت اور باغبانی کرتے تھے اور اس سے اپنی معاش حاصل کرتے تھے۔ اس طرح مدینہ والوں کے شرک کے ساتھ اقتصادی مفاد وابستہ نہیں تھا۔ ان کے لیے شرک صرف ایک آبائی رسم کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ کے لوگوں نے دعوت توحید کی سخت مخالفت کی۔ کیوں کہ ان کو اندیشہ تھا کہ اگر انھوں نے توحید کا دین قبول کر لیا اور شرک کو چھوڑ دیا تو ان کا سارا معاشی مفاد درہم برہم ہو جائے گا۔ مگر مدینہ والوں کے لیے اس قسم کی رکاوٹ موجود نہ تھی اس لیے انھوں نے کسی مزاحمت کے بغیر اسلام قبول کر لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی مقام پر یا کسی گروہ کی طرف سے مخالفت کا سامنا پیش آئے تو اہل حق کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ ان سے لڑ کر اپنے کو ہلاک کر لیں۔ اس کے بجائے صحیح پیغمبرانہ طریقہ یہ ہے کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر دوسرا مقام یا دوسرا گھر وہ تلاش کیا جائے۔ عین ممکن ہے کہ پہلا مقام اگر "مکہ" ثابت ہوا تھا تو دوسرا مقام "مدینہ" کی تاریخ کا اعادہ کرنے والا بن جائے۔ ہر قیمت پر نزاع کو ختم کرنا ہجرت کا حکم آنے کے بعد جو مسلمان مکہ کو چھوڑ کر مدینہ گئے ان میں سے ایک صہیب بن سنان الرومی تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مدینہ پہنچے۔ حضرت صہیب جب مکہ سے نکلے تو قریش کے کچھ لوگوں نے ان کو پکڑ لیا۔ انھوں نے کہا کہ تم مکہ میں آئے تو تم غریب تھے۔ پھر تم نے یہاں مال کمایا۔ اب تم اس مال کو لے کر مدینہ جانا چاہتے ہو تو ہم تم کو نہیں جانے دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر میں اپنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page