Urdu book · عظمتِ اسلام

عظمتِ اسلام

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ پہلا اسکول تھا جو اسلام کی تاریخ میں خود پیغمبر اسلام کے زمانہ میں قائم ہوا۔ اس اسکول کے طلبہ سب کے سب مسلمان تھے۔ مگر اس کے ٹیچر سب کے سب غیر مسلم بلکہ دشمن اسلام تھے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ اس سنت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں علم کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ غیر مسلم سے حتی کہ اسلام دشمنوں سے بھی اگر علم سیکھنے کا موقع ہو تو سیکھنا چاہیے۔ کسی بھی اندیشہ کو علم سیکھنے کے لیے عذر نہیں بنانا چاہیے۔ تشدد کے بجاے حکمت ہجرت کے دوسرے سال غزوۂ بدر پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ ابو جہل کی قیادت میں آرہے ہیں تاکہ مدینہ پر حملہ کریں۔ آپ بھی ۳۱۳ مسلمانوں کے ساتھ نکلے۔ آپ چاہتے تھے کہ دشمن فوج کی تعداد معلوم کریں۔ آپ نے کچھ اصحاب کو آگے بھیجا کہ وہ پتہ کریں۔ وہ لوگ دو غلام پکڑ کر لے آئے جو مکہ کی طرف سے آرہے تھے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ کمر سے جو لوگ نکلے ہیں ان کو تم نے دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ ان کی تعداد کتنی ہے، اب انھوں نے انکار کیا اور کہا کہ ہم نہیں جانتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سوال بدل دیا اور پوچھا کہ وہ لوگ اپنے کھانے کے لیے روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کسی دن نو اونٹ اور کسی دن دس اونٹ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ نو سو اور ایک ہزار کے درمیان ہیں ( القوم ما بين التسعمأة إلى الالف) السيرة النبوية لابن كثیر ۲ / ۳۹۷ غلاموں نے جب تعداد بتانے سے انکار کیا تو ایک صورت یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مارنے کا حکم دیتے اور مار پیٹ کے ذریعہ ان سے کہلوانے کی کوشش کرتے۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ آپ نے سختی کا طریقہ چھوڑ کر حکمت کا طریقہ اختیار فرمایا۔ یہی اصول زندگی کے تمام معاملات کے لیے ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ حکمت اور تدبیر کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرے، وہ تشدد تک ہرگز نہ جائے۔ کیوں کہ تشدد سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور سادہ معاملہ ایک پیچیدہ معاملہ بن کر رہ جاتا ہے۔ پرامن تدبیر اس دنیا میں سب سے زیادہ کارگر تدبیر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page