Urdu book · عظمتِ اسلام

عظمتِ اسلام

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

پسپائی بھی اقدام ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ رومی حکومت مدینہ کی اسلامی ریاست کے خلاف جارحانہ ارادہ رکھتی ہے اور اس نے غسانیوں کی مدد سے شام کی سرحد پر ایک فوج بھی اس مقصد کے لیے جمع کی ہے ۔ چنانچہ آپ نے تین ہزار مسلمانوں کا لشکر ان کے مقابلہ کے لیے روانہ کیا۔ تاریخ اسلام میں اس کو غزوہ موتہ کہا جاتا ہے۔ چند روز کی جنگ میں مسلمانوں کے تین سردار شہید ہو گئے۔ اس کے بعد خالد بن الولید کو مسلم لشکر کا سردار بنایا گیا۔ انھوں نے اندازہ کیا تو معلوم ہوا کہ مسلم فوج کی تعداد تین ہزار ہے، جب کہ رومی لشکر کی تعداد دو لاکھ ۔ یہ فرق ناقابل عبور حد تک زیادہ تھا۔ چنانچہ حضرت خالد نے واپسی کا فیصلہ کی حکیمانہ تدبیر کے ساتھ پیچھے ہٹ کر وہ مدینہ واپس آگئے ۔ مسلم فوج جب مدینہ پہنچی تو یہاں کے مسلمانوں نے برے انداز میں ان کا استقبال کیا۔ انھوں نے ان کے اوپر مٹی پھینکی اور کہا کہ اے بھاگنے والو، تم اللہ کے راستہ سے بھاگ آئے ( یا فرار فررتـم فی سبیل الله) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ وہ بھاگنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ ان شاء اللہ وہ اقدام کرنے والے ہیں (لیسو با لفرار ولكنهم الكرار ان شاء الله تعالى) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم یہ تھا کہ وہ بھاگ کر واپس نہیں آئے ہیں۔ بلکہ انھوں نے جنگی حکمت عملی کے تحت ایسا کیا ہے۔ وہ تیاری کر کے ان شاء اللہ دوبارہ اقدام کریں گے اور کامیاب ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنگ اگر نتیجہ خیز نہ ہو رہی ہو تو بے فائدہ طور پر جنگ جاری رکھنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اہل اسلام جنگ کے میدان سے ہٹ کر تیاری کے میدان میں لوٹ آئیں ۔ مسلمان کا کام لڑا کر مر جانا نہیں ہے مسلمان کا کام تاریخ کو صحیح رخ کی طرف چلانا ہے ۔ اور یہ کام نہ زندہ رہ کر ہو سکتا ہے۔ اپنے آپ کو ہلاک کر کے اس کام کو انجام نہیں دیا جا سکتا ۔ مثبت طرز فکر فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے طائف گئے تھے۔ آپ ابھی سفر میں تھے کہ درمیان میں ایک راستہ آیا۔ آپ نے پوچھا کہ اس راستہ کا نام کیا ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ الضيقہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page