عظمتِ اسلام
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
تنگ راستہ) آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ بلکہ وہ الیسری ہے۔ یعنی آسان راستہ ( السیرۃ النبویر لابن کثیر (۶۵۵/۳) اس واقعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم سنت معلوم ہوتی ہے ۔ اور وہ ہے تنگی کو فراخی کی صورت میں دیکھنا ، مشکل کو آسانی کے روپ میں دیکھنا ۔ منفی چیز میں بھی مثبت رخ پالینا۔ اس دنیا میں کوئی بھی مشکل صرف مشکل نہیں۔ ہر مشکل کے ساتھ یہاں آسانی پائی جاتی ہے۔ یہاں سلبی پہلو کے ساتھ ہر چیز میں ایجابی پہلو بھی موجود ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کسی چیز کو مشکل کیوں کہے۔ اس کو چاہیے کہ آسانی والے پہلو کو لیتے ہوئے وہ اس کو آسانی کا نام دے۔ وہ چیزوں کو منفی رخ سے دیکھنے کے بجائے مثبت رخ سے انہیں دیکھنے لگے۔ اس سنتِ رسول کو مثبت سوچ (positive thinking) کہہ سکتے ہیں۔ اسلام آدمی کو پورے معنوں میں مثبت طرز فکر والا انسان (positive thinker) بناتا ہے ۔ اسلام میں منفی طرز فکر کے لیے کوئی گنجائش نہیں ۔ میدانِ مقابلہ کو بدلنا ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریشِ مکہ کے درمیان جنگ چھڑ گئی ۔ چھوٹی بڑی کئی لڑائیاں ہوئیں۔ مگر دونوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہونا تھا۔ اس وقت ۶ھ میں ایک الہامی خواب کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اعلان فرمایا کہ میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ جاؤں گا۔ تقریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ آپ کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو گئے۔ یہ قافلہ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچا تو قریش کے سردار آگئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اب دونوں فریقوں کے درمیان گفتگو شروع ہوئی جو کئی دن تک چلتی رہی۔ اس گفتگو میں یہ طے پایا کہ رسول اللہ اور قریش کے درمیان دس سال کا جنگ معاہدہ ہو جائے۔ قریش نے اس معاہدہ کے لیے ایسی شرطیں پیش کیں جو یک طرفہ طور پر ان کے حق میں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تمام شرطوں کو مان لیا اور یہ معاہدہ کر کے واپس آگئے کہ دس سال تک دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہیں کریں گے اور پر امن طور پر رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader