Urdu book · عظمتِ اسلام

عظمتِ اسلام

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

صحابہ کرام کے اوپر یہ معاہدہ نہایت سخت تھا۔ کیوں کہ اس میں قریش کی شرطوں کو ایک طرفہ طور پر مان لیا گیا تھا۔ لیکن جب معاہدہ ہو گیا تو قرآن کی سورہ الفتح اتری اور اس میں اعلان کیا گیا کہ یہ معاہدہ اہلِ ایمان کے لیے فتح مبین کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ معاہدۂ حدیبیہ سے پہلے مومنین اور مشرکین کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہو رہا تھا۔ چوں کہ دونوں کے پاس جنگی طاقت تھی اس لیے کبھی ایک فریق جیتتا تھا اور کبھی دوسرا فریق۔ مگر معاہدۂ حدیبیہ نے مقابلہ کے میدان کو بدل دیا۔ اب دونوں فکری اور نظریاتی مقابلہ کے میدان میں آگئے۔ چنانچہ جب کہ اور مدینہ کے درمیان آمد و رفت شروع ہوئی اور پر امن ماحول میں تبادلۂ خیال جاری ہوا تو اہل توحید کے نظریات واضح طور پر اہلِ شرک کے نظریات پر بر تر ثابت ہوئے۔ اس کے نتیجہ میں لوگ اتنی بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہو گئے کہ صرف عددی طاقت ہی دونوں فریقوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہو گئی۔ یہ سنت بتاتی ہے کہ جب بھی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ٹکراؤ کے حالات پیدا ہو جائیں تو مسلمانوں کو ایک طرفہ بنیاد پر ٹکراؤ کو ختم کر دینا چاہیے۔ ٹکراؤ میں مقابلہ کا ذریعہ مادی قوت ہوتا ہے۔ مگر امن کے حالات میں فکری اور نظریاتی بحث اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ اور جب مقابلہ فکری میدان میں آجائے تو لازماً اسلام کو فتح حاصل ہوگی، کیوں کہ فکری برتری اسلام کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ روایات کو توڑے بغیر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ؑ نے کعبہ کی تعمیر کی۔ انھوں نے اللہ کے حکم کے تحت حج کا نظام قمری کیلنڈر کی بنیاد پر قائم کیا تھا۔ بعد کو قریش مکہ نے اپنے تجارتی مفاد کی خاطر حج کا نظام شمسی کیلنڈر کی بنیاد پر قائم کر دیا۔ یہ اللہ کے دین میں ایک بگاڑ تھا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں شامل تھا کہ وہ اس بگاڑ کو درست کریں اور حج کے نظام کو دوبارہ قمری کیلنڈر کی بنیاد پر قائم کر دیں۔ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ۶۱۰ء میں نبی کا منصب عطا فرمایا۔ اس وقت آپ مکہ میں تھے مگر آپ نے اس مسئلہ کو نہیں چھیڑا۔ آپ اپنی آنکھوں سے ہر سال دیکھتے تھے کہ لوگ خدائی نقشہ کے خلاف شمسی کیلنڈر کے اعتبار سے حج کر رہے ہیں مگر کبھی آپ نے اس کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔ اس کے بعد ۶۳۰ء میں وہ وقت آیا جب کہ آپ کو مکہ پر فتح حاصل ہوگئی۔ مگر اب بھی آپ نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page