Urdu book · عظمتِ اسلام

عظمتِ اسلام

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

تعظیم کے لیے آیا ہے (ایصد عن بیت اللہ من جاء معظمہ) سیرۃ ابن ہشام ۳۶۱/۳ یہ بیانات واضح طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تھے۔ مگر آپ نے انہیں مطلق استعمال نہیں کہا۔ قریش کے ساتھ گفتگو میں آپ نے کبھی ان لوگوں کی باتوں کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کی باتیں خواہ کتنی ہی زیادہ منصفانہ کیوں نہ ہوں، وہ عملی طور پر بے فائدہ تھیں کیونکہ قریش ہرگز ان کو ماننے والے نہ تھے جو اس وقت مکہ کے سرکش سرداروں کے زیر اثر تھے۔ چنانچہ اس قسم کی موافق رپورٹوں اور بیانات کے باوجود آپ نے قریش کے مطالبات کو یک طرفہ طور پر مان لیا۔ اور وہ امن معاہدہ کر کے مدینہ واپس چلے آئے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ اس واقعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خصوصی سنت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ جب کسی سے نزاع پیدا ہو تو منطقی انصاف“ کے بجائے عملی حل کو اہمیت دینا چاہیے ۔ ایسے معاملات میں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کس آدمی نے ہمارے موافق بات کہی ہے یا ہمارے نقطہ نظر سے منصفانہ بیان دیا ہے۔ بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ جن لوگوں کے ساتھ اصلا نزاع برپا ہوئی ہے وہ خود کس طرح نزاع کو ختم کرنے پر راضی ہوں گے ، اور پیدا شدہ مسئلہ کا عملی حل کیا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اصل مقصود مسئلہ کا عملی حل ہے نہ کہ مسئلہ کا منطقی تجزیہ۔ ایک حکمت غزوہ احد شوال ۳ ھ میں پیش آیا۔ اس جنگ میں ابتداً مسلمان غالب رہے۔ مگر بعد کو انہیں شکست ہوئی۔ تقریباً ستر اصحاب شہید ہوئے۔ جب مسلمان منتشر ہوگئے تو دشمنوں کا ہجوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا۔ انھوں نے آپ کے اوپر پتھر پھینکنے شروع کیے ۔ عبداللہ بن قمیہ اور عتبہ بن ابی وقاص وغیرہ نے آپ پر اس زور کے ساتھ پتھر مارے کہ آپ کا چہرہ لہولہان ہوگیا۔ سامنے کا دانت ٹوٹ گیا ۔ لوہے کی خود کی دو کڑیاں آپ کے رخسار میں اندر تک گھس گئیں ۔ بعد کو ابو عبیدہ بن الجراح نے ان کڑیوں کو اپنے دانتوں سے پکڑ کر کھینچا تو ان کے دو دانت ٹوٹ گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو کر ایک پہلو پر گر پڑے ۔ اس وقت آپ نے پہاڑ کے ایک گڑھے میں پناہ لی تاکہ آپ دشمنوں کی نظر سے اوجھل ہو جائیں۔ لوگوں نے آپ کو نہیں دیکھا تو مشہور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page