ایک حکمت
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوگیا کہ آپ شہید ہوگئے ۔ اس خبر سے آپ کے اصحاب میں زبردست سراسیمگی پھیل گئی ۔ اس ہنگامی حالت میں جو مختلف واقعات پیش آئے ان میں سے ایک یہ تھا : قال ابن اسحاق : وكان اول من عرف رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد الهزيمة وقول الناس قُتِلَ رسول الله صلى الله عليه وسلم - كما ذكر ابن شهاب الزهري - كعب بن مالك ، قال : عَرَفْتُ عينه الشريفيتين تزهران من تحت المِغْفَرِ، فناديتُ بأعلى صوتی يا معشر المسلمين ابشروا ، هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فاشار الى رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان أَنْصِتْ " سيرة ابن هشام صفحہ ۳۱ ابن اسحاق کہتے ہیں ۔ اور پہلا شخص جس نے شکست کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا اور لوگوں کے اس قول کے بعد کہ آپ قتل کر دیئے گئے ، جیسا کہ ابن شہاب زہری نے بیان کیا ، وہ کعب بن مالک ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی دونوں آنکھوں کو خود کے اندر سے چکتے ہوئے دیکھا اس وقت میں نے بلند آواز سے پکارا ، اے مسلمانو ، تمہارے لیے خوش خبری ہو ۔ یہ ہیں اللہ کے رسول ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ فرمایا کہ چپ رہو۔ صحابی نے اس وقت جو جملہ کہا تھا اس کو الگ کر کے دیکھیے ۔ انھوں نے صرف یہ کہا تھا کہ " مسلمانو ، تمہیں خوش خبری ہو ، اللہ کے رسول یہاں موجود ہیں " بظاہر یہ ایک صحیح اور معصوم جملہ ہے ۔ بلکہ وہ ایک ایسا جملہ ہے جس پر کہنے والے کو ثواب ملنا چاہیے اور اس کی تعریف میں أَحْسَنْتَ اور صَدَقْتَ کا غلغلہ بلند ہونا چاہیے ۔ مگر عملاً اس کے برعکس ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں چپ رہنے کے لیے کہا ۔ اور وہ بھی زبان سے نہیں کہا بلکہ اشارہ سے کہا۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ نے اس وقت نہ خود بولنا پسند فرمایا اور نہ یہ چاہا کہ کوئی دوسرا شخص اس موقع پر بولے ۔ مذکورہ موقع پر کیوں ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بولنے سے منع فرمایا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت آپ دشمنوں کی نگاہ سے اوجھل تھے ۔ چوں کہ اس وقت آپ شدید زخمی تھے ، اس لیے آپ کا لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہنا ہی قرین مصلحت تھا ۔ اگر وہ لوگ جان لیتے کہ آپ یہاں گڑھے میں ہیں تو وہ ہجوم کرکے وہاں آتے اور آپ کے اوپر مزید پتھر برسانا شروع کر دیتے ۔ ایسے نازک موقع پر چپ رہنا زیادہ بہتر تھا نہ کہ بولنا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader