Urdu book · عظمتِ اسلام

عظمتِ اسلام

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی کا نام موقع شناسی ہے۔ عملی کارروائی ہمیشہ حالات اور مواقع کے لحاظ سے کی جاتی ہے۔ جس کارروائی میں حالات اور مواقع کی رعایت شامل نہ ہو وہ خودکشی ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی عملی کارروائی ۔ حالات کبھی یکساں نہیں رہتے، ان میں بار بار تبدیلی ہوتی ہے، اس لیے طریق عمل میں بھی بار بار تبدیلی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کبھی ایک مقصد کو اعلان کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے کبھی اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اخفار کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ کبھی آدمی مجبور ہوتا ہے کہ فریق ثانی کے ساتھ مقابلہ کرے ، کبھی زیادہ کامیاب تدبیر یہ ہوتی ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مقابلہ کے میدان سے ہٹا دے۔ کبھی پانے کی کوشش کا نام پانا ہوتا ہے اور کبھی پانا اس کا نام ہوتا ہے کہ کھونے کو برداشت کر لیا جائے۔ موجودہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے یہ حکمت اتنی زیادہ ضروری ہے کہ اللہ کے پیغمبر کو بھی اس کی رعایت کرنی پڑی ، پھر دوسرے لوگ اس کی رعایت کیے بغیر کیسے کوئی حقیقی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔ اصلاح میں نرمی اور تدرنج طائف قدیم عرب کا واحد فصیل دار شہر تھا۔ اس کی زمین بھی زرخیز تھی۔ یہاں قبیلہ ثقیف رہتا تھا۔ اپنی بعض امتیازی خصوصیات کی بنا پر یہ لوگ بہت مغرور تھے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سرکشی بھی کی اور طرح طرح کی گستاخیاں بھی کیں۔ فتح مکہ کے باوجود انھوں نے کافی دیر کے بعد آپ کی اطاعت قبول کی۔ قبیلہ ثقیف کا وفد رمضان ۹ھ میں مدینہ آیا ، اس نے قبول اسلام کے لیے عجیب عجیب شرطیں پیش کیں۔ انہی میں سے ایک شرط یہ تھی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اس شرط پر بیعت کی کہ وہ نہ صدقہ (زکوٰۃ) دیں گے اور نہ جہاد میں شریک ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس شرط کو مان کر ان کی بیعت قبول کر لی۔ کچھ لوگوں نے اس پر سوال کیا تو آپ نے فرمایا : یتصد قون ویجاهدون اذا اسلموا جب وہ اسلام قبول کر لیں گے تو اس کے بعد وہ صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔ (السیرۃ النبویہ لابن کثیر ۵۶/۴)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page