عظمتِ اسلام
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے ایک اہم اسلامی اصول معلوم ہوتا ہے ۔ اور وہ اصلاح میں تدرّج کی حکمت ہے۔ زیرا صلاح افراد اگر بیک وقت تمام اسلامی احکام قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو مصلح کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ان کے اوپر سارے اسلامی احکام نافذ کرنے کے لیے زبردستی کرے یا ان کی اصلاح سے مایوس ہو جائے ۔ اس کے بجائے اس کو انسانی فطرت پر بھروسہ کرتے ہوئے حکمت اور تدرّج کے ساتھ اسلامی احکام کا نفاذ عمل میں لانا چاہیے ۔ اس سنتِ رسول سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ کوئی نیا شخص اگر اسلام قبول کرنے کے لیے اس قسم کی شرط لگائے کہ وہ فلاں کام نہیں کرے گا یا فلاں عادت نہیں چھوڑے گا تو اس کی اس شرط کو مانتے ہوئے اس کو اسلام میں داخل کر لینا چاہیے۔ اور یہ امید رکھنا چاہیے کہ جب وہ اسلام کے دائرہ میں آجائے گا تو اس کے بعد ان شاء اللہ وہ دھیرے دھیرے تمام اسلامی احکام پر عمل کرنے لگے گا۔ ٹکراؤ سے اعراض حدیبیہ کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے روانہ ہو کر جب عُسفان کے مقام پر پہنچے تو وہاں آپ کی ملاقات بشر بن سفیان الکعبی سے ہوئی۔ اس نے آپ کو بتایا کہ قریش کو آپ کے اس سفر کی اطلاع مل چکی ہے۔ وہ اپنی عورتوں اور بچوں کے ساتھ نکل آئے ہیں۔ انھوں نے چیتے کی کھال پہن لی ہے اور ذی طویٰ میں آکر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ انھوں نے عہد کیا ہے کہ وہ ہرگز آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔ خالد بن ولید ان کے سواروں کے دستہ کے سردار ہیں اور وہ اپنے سواروں کے ساتھ کراع الغمیم تک بڑھ چکے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے یہ نہیں فرمایا کہ خالد کے دستہ سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ بلکہ آپ نے لوگوں سے کہا کہ تم میں کون شخص ہے جو ہم کو یہ راستہ چھوڑ کر جس پر قریش ہیں ، کسی دوسرے راستہ سے لے چلے (من رجل يخرج بنا علی طریق غير طريقهم التي هم بها) یہ سن کر قبیلہ اسلم کے ایک شخص نے کہا کہ انا يا رسول الله (اے خدا کے رسول ، میں یہ کام کر دوں گا) اس کے بعد یہ صاحب آگے ہو گئے اور پورے قافلہ کو ایک نئے راستہ پر چلا کر آگے لے گئے جو سخت پتھریلا اور دشوار تھا۔ قریشی دستہ جو خالد بن الولید کی سرداری میں آگے بڑھ رہا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader