Urdu book · عظمتِ اسلام

عظمتِ اسلام

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

تھا، اس نے مسلم لشکر کا غبار فضا میں دیکھا۔ اب انھوں نے سمجھا کہ وہ لوگ دوسرے راستہ چلے گئے۔ چنانچہ قریشی لشکر بھی واپس ہو گیا اور دور تاہوا قریش کے یہاں واپس آگیا (سیرۃ النبی لابن ہشام ۵۶/۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل بتاتا ہے کہ آپ کی سنتوں میں سے ایک اہم سنت ٹکراؤ سے اعراض ہے۔ اگر دشمن جنگ پر تلا ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہل اسلام بھی فوراً مقابلہ کے لیے تیار ہو جائیں۔ اہل اسلام کو چاہیے کہ وہ ٹکراؤ سے اعراض کی ہر ممکن تدبیر اختیار کریں، الا یہ کہ معرکہ بالکل ناگزیر ہو جائے۔ گویا اسلام میں اعراض اصل ہے اور جنگ صرف استثناء۔ راز داری کا طریقہ قریش نے حدیبیہ کے معاہدہ کی خلاف ورزی کی۔ اس کے بعد یہ معاہدہ ٹوٹ گیا۔ یہ ۸ھ کا واقعہ ہے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ مہم پر روانہ ہونے کے لیے ضروری تیاری کریں۔ چنانچہ لوگ تیاری کرنے لگے۔ آپ نے اپنے گھر والوں سے بھی کہا کہ تم لوگ میرا سامانِ سفر تیار کرو۔ اس طرح پورے مدینہ میں تیاریاں ہونے لگیں۔ مگر کسی کو بھی یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ تیاری کہاں کے لیے ہو رہی ہے۔ حتیٰ کہ ابوبکر و عمر جیسے قریبی اصحاب کو بھی آپ نے اس سلسلہ میں کچھ نہیں بتایا۔ حضرت ابوبکرؓ کو تشویش تھی۔ ایک روز وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئے۔ یہاں دیکھا کہ حضرت عائشہؓ آپ کے سفر کی تیاری میں لگی ہوئی ہیں (یعنی راستہ کے لیے ستو وغیرہ بنا رہی ہیں) حضرت ابوبکرؓ نے اپنی صاحبزادی سے پوچھا کہ کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ ان کے لیے سامان تیار کرو۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا کہ تمہارا کیا خیال ہے۔ یہ تیاری کہاں جانے کے لیے ہو رہی ہے۔ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم مجھ کو معلوم نہیں (واللہ ما ادری) سیرۃ النبی لابن ہشام ۱۳/۴ اس سنت نبوی سے یہ اصول ملتا ہے کہ اجتماعی معاملات میں ہمیشہ راز داری کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ آپ کی یہ تیاری مکہ کی مہم کے لیے تھی۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ آپ اس طرح روانہ ہوں کہ مکہ والے اس سے بالکل بے خبر رہیں۔ وہ اس کو صرف اس وقت جانیں جب کہ آپ مکہ کی سرحد پر پہنچ چکے ہوں۔ اس مقصد کے لیے آپ نے راز داری کا اتنا زیادہ اہتمام کیا کہ انتہائی قریبی ساتھیوں کو بھی اس کی اطلاع نہیں دی۔ اس طرح کی مہم میں راز داری کا طریقہ اختیار کرنا مہم کی کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page