Urdu book · عظمتِ اسلام

عظمتِ اسلام

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر حال میں درگزر مدینہ کی مسجد نبوی کا واقعہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام مسجد میں موجود تھے۔ اس درمیان ایک اعرابی آیا۔ اس نے مسجد کے اندر پیشاب کر دیا۔ لوگ اس کو تنبیہ کرنے کے لیے دوڑے۔ مگر آپ نے منع فرما دیا۔ آپ نے کہا کہ اعرابی کو چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو۔ کیوں کہ تم آسانی پیدا کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو، تم مشکل پیدا کرنے کے لیے نہیں بھیجے گئے (فانما بعثتم میسرین ولم تُبعثوا معسرین) فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱ / ۳۸۶ مذکورہ اعرابی نے مسجد کی بے حرمتی کی تھی۔ اس نے مقدس مسجد کو گندا کر دیا تھا۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نہ ڈانٹا اور نہ مارا اور نہ اسے کوئی سزا دی۔ حتی کہ آپ کے اصحاب جب اس کی تنبیہ کے لیے دوڑے تو اس تنبیہ کو آپ نے سختی سے تعبیر کیا اور اس کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنے کی ہدایت فرمائی۔ مسجد نبوی میں پیشاب کرنا مسجد کی بے حرمتی کی آخری قبیح صورت ہے۔ مگر ایسی قبیح حرکت پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ کرنا پسند نہیں فرمایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اعرابی جب اپنے قبیلہ میں واپس گیا تو اس نے قبیلہ والوں سے کہا کہ میں مدینہ گیا اور وہاں میں نے مسلمانوں کی مقدس عبادت گاہ میں پیشاب کر دیا۔ محمد بھی وہاں موجود تھے۔ مگر خدا کی قسم محمد نے نہ مجھ کو جھڑ کا اور نہ مجھ پر غصہ کیا ( واللہ ما زجرنی محمد واللہ ما قهرنی محمد) اس اعلیٰ سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اعرابی اور اسی کے ساتھ قبیلہ کے دوسرے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل اسلام کو چاہیے کہ وہ قبیح ترین معاملات میں بھی انسانوں سے درگزر کریں۔ لوگوں کی بری حرکتوں کے باوجود وہ ان کے اوپر سختی کرنے والے نہ بنیں۔ اہل اسلام کو ہر حال میں نرمی کا طریقہ اختیار کرنا ہے، خواہ دوسروں کی طرف سے کتنا ہی اشتعال انگیز معاملہ کیوں نہ کیا گیا ہو۔ ذاتی شرف کے بجائے اہلیت کو دیکھنا نماز باجماعت کا نظام ہجرت کے بعد مدینہ میں قائم ہوا۔ اب سوال یہ تھا کہ لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ آپ نے لوگوں سے مشورہ کیا۔ کسی نے کہا کہ نماز کے وقت جھنڈا کھڑا کیا جائے ، لوگ جب اس کو دیکھیں گے تو مسجد میں جمع ہو جائیں گے۔ کسی نے کہا کہ جب نماز کا وقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page