عظمتِ اسلام
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
آجائے تو بغل بجایا جائے۔ کسی نے کہا کہ ناقوس بجایا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی بھی تجویز کو پسند نہیں فرمایا۔ اور مجلس برخاست ہو گئی ۔ اگلے دن فجر کی نماز کے بعد ایک صحابی عبد اللہ بن زید نے بتایا کہ انھوں نے رات کو خواب میں دیکھا۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ ان کو اذان کے کلمات بتا رہا ہے۔ یہ کلمات وہی تھے جو آج دنیا بھر کی تمام مسجدوں میں ہر جگہ ہر نماز کے وقت دہرائے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ کلمات سنے تو فرمایا کہ یہ سچا خواب ہے اور خدا کی طرف سے ہے۔ اور اس کے بعد آپ نے فیصلہ فرما دیا کہ پانچوں نمازوں کے وقت لوگوں کو مسجد میں جمع کرنے کے لیے یہی کلمات پکارے جائیں۔ یہ خواب اگرچہ حضرت عبداللہ بن زید نے دیکھا تھا۔ اور یہ ان کے لیے بلاشبہ غیر معمولی شرف تھا کہ ان کو اللہ کی طرف سے اذان کے وہ کلمات تلقین کیے جائیں جو قیامت تک تمام مسجدوں میں دہرائے جانے والے ہیں۔ مگر آپ نے عبد اللہ بن زید کو اذان دینے کا کام نہیں سونپا۔ بلکہ ان سے کہا کہ تم یہ کلمات بلال کو سکھا دو اور وہ کھڑے ہو کر اذان دیں گے۔ کیوں کہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز ہیں ( فائدہ اندی صوتا منك ) سنن ابی داؤد ۱۳۲/۱ یہ واقعہ عہدوں کی تقسیم میں اسلام کے مزاج کو بتا رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عہدہ یا منصب پر کسی آدمی کو مقرر کرنا ہو تو ذاتی شرف کی بنیاد اس کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ اہلیت کی بنیاد پر اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کسی ذمہ داری کے عہدہ کو بخوبی طور پر انجام دینے کے لیے جس مخصوص صلاحیت کی ضرورت ہو، وہ صلاحیت جس آدمی کے اندر پائی جائے اس کو اس عہدہ کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ ایسا نہیں کیا جائے گا کہ ذاتی شرف کی بنیاد پر لوگوں کو عہدے دے دیے جائیں ، خواہ ان کو بخوبی طور پر انجام دینے کی اہلیت ان کے اندر نہ پائی جاتی ہو۔ جنگ سے آخری حد تک بچنا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم عرب میں جو انقلاب لائے اس کی ایک حیرت ناک خصوصیت یہ ہے کہ ۲۳ سالہ عمل کے ذریعہ پورے عرب میں انقلاب آگیا مگر اس کے دوران دونوں طرف کے صرف ایک ہزار سے کچھ اوپر آدمی ہلاک ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کا لایا ہوا انقلاب ایک غیر خونی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader