عظمتِ اسلام
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
انقلاب (bloodless revolution) تھا، یہ غیر خونی انقلاب کیوں کر ممکن ہوا۔ یہ پیغمبر اسلام کی پر امن جد و جہد کے ذریعہ ممکن ہوا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ الصلح خیر (النساء، ۱۲۸) مگر سارے قرآن میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ (الحرب خیر)۔ قرآن میں قیادت کار از صبر (السجدہ ۲۴) کو بتایا گیا ہے۔ یہ کہیں نہیں فرمایا کہ قیادت و امامت کار از ٹکراؤ ہے۔ اسی قسم کی خدائی تعلیمات نے پیغمبر اسلام کا طریق کار متعین کیا تھا۔ آپ کو اپنی قوم کی طرف سے سخت ترین مخالفت کا سامنا پیش آیا۔ مگر آپ نے اپنی ساری عمر میں باقاعدہ طور پر صرف تین بار جنگ کی - بدر، احد اور حنین۔ یہ تینوں جنگیں دفاعی تھیں اور ایسے حالات میں لڑی گئیں کہ فریق ثانی نے ایک طرفہ جارحیت کے ذریعہ جنگ سے بچاؤ کی کوئی صورت باقی نہیں رکھی تھی۔ مکہ کے آخری زمانہ میں قریش کے سرداروں نے تلواریں لے کر آپ کے مکان کو گھیر لیا۔ مگر آپ رات کے وقت خاموشی سے نکل کر مدینہ چلے گئے۔ غزوہ خندق کے موقع پر دشمنوں کی فوج مدینہ پر حملہ آور ہوئی۔ مگر آپ نے خندق کھود کر انھیں فاصلہ پر روک دیا۔ حدیبیہ کے سفر میں آپ کو معلوم ہوا کہ خالد بن ولید سواروں کے ایک دستہ کے ساتھ آپ کی طرف جنگ کے ارادہ سے بڑھ رہے ہیں، تو آپ نے اپنا راستہ بدل دیا تا کہ ان سے مڈبھیڑ نہ ہو سکے۔ اسی سفر میں حدیبیہ کے مقام پر قریش نے آپ کا راستہ روکا۔ اگر آپ اپنے منصوبہ کے مطابق عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے تو یقیناً جنگ ہو جاتی۔ مگر آپ دشمن کی شرائط پر صلح کر کے وہاں سے مدینہ واپس آ گئے۔ فتح مکہ کے بعد مکہ کے لوگ آپ کے پاس لائے گئے جو ہر اعتبار سے جنگی مجرم تھے۔ مگر آپ نے ان کو معاف کر دیا۔ اگر آپ ان سے انتقام لیتے تو جوابی انتقام کی صورت میں دوبارہ جنگ بھڑک اٹھتی۔ وغیرہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ جنگ سے آخری حد تک اعراض کیا جائے۔ دشمن سے ٹکراؤ صرف اس وقت کیا جائے جب کہ اس کی یک طرفہ جارحیت کی بنا پر دوسری کوئی صورت سرے سے باقی نہ رہے۔ مظاہرۂ طاقت نہ کہ استعمال طاقت ۳ھ میں غزوہ احد پیش آیا۔ اس غزوہ میں اہل ایمان کو شکست ہوئی۔ ان کی تعداد اس وقت ۷۰۰ تھی ۔ اس میں سے ستر آدمی شہید ہو گئے ۔ اور بہت سے زخمی ہوئے۔ غزوہ احد کے فوراً

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader