مظاہرۂ طاقت نہ کہ استعمال طاقت
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
بعد ایک اور مہم پیش آئی جس کو اسلام کی تاریخ میں غزوہ حمراء الاسد کہا جاتا ہے۔ غزوہ احد میں جنگ کی گئی تھی اور غزوہ حمراء الاسد میں صرف مظاہرہ ۔ احد کے بعد قریش کو کا شکر فاتحانہ طور پر واپس مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ یہ لوگ جب روحاء کے مقام پر پہنچے تو انہیں خیال آیا کہ ہم نے بڑی غلطی کی۔ ہم کو چاہیے تھا کہ جب مسلمانوں کو شکست ہو گئی تو ہم ان کا پیچھا کرتے ہوئے مدینہ میں گھس جاتے اور مسلمانوں کی طاقت کو آخری حد تک کچل دیتے مگر ہم قبل از وقت وہاں سے لوٹ آئے۔ روحاء میں بیٹھ کر یہ لوگ تیاری کرنے لگے کہ ہم دوبارہ مدینہ کی طرف واپس جائیں اور اپنی فتح کو تکمیل تک پہنچائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی اس کا اندیشہ تھا۔ چنانچہ آپ قریش کے بارہ میں خبریں معلوم کرتے رہتے تھے۔ ایک مسافر نے بتایا کہ وہ لوگ روحاء کے مقام پر ٹھہر گئے ہیں اور مدینہ واپس آنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ یہ خبر سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اعلان کر دیا کہ دشمن کا پیچھا کرنے کے لیے ہمیں چلنا ہے، سب لوگ تیار ہو جائیں۔ اسی کے ساتھ آپ نے یہ بھی ہدایت فرمائی کہ ہمارے ساتھ وہی لوگ چلیں جو غزوہ احد میں عملاً شریک تھے ۔ نئے افراد ہر گز نہ جائیں۔ چنانچہ عبداللہ بن أبی اور اس کے ساتھیوں نے چلنے کے لیے کہا مگر آپ نے سختی کے ساتھ انکار کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کا مقصد لشکر قریش سے از سر نو جنگ کرنا نہیں تھا بلکہ انہیں صرف خوف زدہ کرنا تھا۔ اگر نئے تازہ دم لوگ اس مہم میں شامل رہتے تو اندیشہ تھا کہ جوش میں آکر وہ دشمن سے لڑائی چھیڑ دیں اور پھر اصل مقصد حاصل نہ ہو سکے ۔ اس مہم سے آپ کا مقصد صرف یہ تھا کہ جب وہ سنیں کہ مسلمان ان کا پیچھا کرنے کے لیے نکلے ہیں تو وہ یہ سمجھ کر ڈر جائیں کہ مسلمانوں کو شاید نئی مدد حاصل ہو گئی ہے اور وہ زیادہ بڑی فوج لے کر ان کی طرف آرہے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ قریش کو جب یہ خبر ملی کہ رسول اللہ اپنے ساتھیوں کو لے کر ان کی طرف بڑھ رہے ہیں تو وہ خوف زدہ ہو گئے اور مدینہ واپسی کا ارادہ ترک کر کے تیزی سے مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی خبر ملی تو آپ نے کہا کہ ہمارا مقصد حاصل ہو گیا۔ اب تم لوگ بھی اپنے گھروں کی طرف واپس ہو جاؤ ( البدایہ والنھایہ لابن کثیر ۴/ ۵۱-۴۹) اس طرح کے کئی واقعات سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader