Urdu book · عظمتِ اسلام

پسپائی بھی اقدام ہے

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

پسپائی بھی اقدام ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں توحید کی دعوت شروع کی اور ۱۳ سال تک اس کے لیے ہر قسم کی پر امن کوشش کرتے رہے۔ مگر آپ کی ساری کوششوں کے باوجود کو کے لوگ آپ کی اطاعت پر راضی نہیں ہوئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا مگر بیشتر لوگ آپ کی دعوت کے منکر بنے رہے۔ آخری دور میں مکہ کے سرداروں نے آپ کے خلاف ہر قسم کی زیادتی کو اپنے لیے جائز کر لیا۔ پہلے انھوں نے کمزور مسلمانوں کو ستایا۔ اس کے بعد رسول اللہ اور آپ کے خاندان بنو ہاشم کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ جب اس سے بھی معاملہ ختم نہیں ہوا تو انھوں نے آخری فیصلہ کن کارروائی کا منصوبہ بنایا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مکی دور کے آخری زمانہ میں قریش کے تمام سردار دار الندوہ میں جمع ہوئے۔ یہ دار الندوہ دراصل قصی بن کلاب کا مکان تھا جہاں قریش کے لوگ اہم معاملات کا فیصلہ کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ مشورہ کے دوران مختلف رائیں سامنے آئیں ۔ ایک سردار نے کہا کہ محمد کو لوہے کی زنجیروں میں باندھ کر ایک جگہ بند کر دو اور ان کی موت کا انتظار کرو۔ مگر اس رائے پر حاضرین کا اتفاق نہ ہو سکا۔ ایک اور شخص نے کہا کہ محمد کو مکہ سے نکال دو۔ یہاں سے جلاوطنی کے بعد وہ جہاں چاہیں جا کر بسیں۔ مگر اس رائے پر بھی لوگ متفق نہیں ہوئے ۔ آخر میں ابو جہل بن ہشام نے کہا کہ میری بھی ایک رائے ہے اور مجھے یقین ہے کہ تم لوگ اس کو پسند کرو گے۔ ابو جہل نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ ہم مکہ کے ہر قبیلہ میں سے ایک جوان آدمی کو لیں ۔ اور پھر ہر ایک کے ہاتھ میں ایک تلوار دیں۔ یہ سب بیک وقت محمد کے پاس پہنچیں۔ یہ لوگ ایک ساتھ اس طرح تلوار ماریں گویا کہ وہ ایک ہی آدمی کا وار ہے اور اس طرح سب مل کر محمد کو قتل کر دیں۔ اس کے بعد ہم اس شخص سے نجات پالیں گے۔ کیوں کہ اس طرح اس کے قتل کا خون تمام قبیلوں پر بٹ جائے گا اور بنو عبد مناف اپنی قوم کے تمام افراد سے جنگ نہ کر سکیں گے اور خوں بہا لینے پر راضی ہو جائیں گے۔ جب قریش کا ظلم اس حد تک پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page