Urdu book · عظمتِ اسلام

پسپائی بھی اقدام ہے

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

مکہ چھوڑ کر کسی دوسرے مقام پر چلے جانے کا فیصلہ فرمایا۔ اس طرح وہ واقعہ پیش آیا جس کو اسلامی تاریخ میں ہجرت کہا جاتا ہے۔ اس فیصلے کی حکمت بتاتے ہوئے آپؐ نے ایک نہایت اہم بات فرمائی۔ یہ حدیث بخاری (فضائل مدینہ) مسلم (کتاب الحج) اور موطا امام مالک (کتاب الجامع) میں نقل ہوئی ہے ۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں : أمرت بقرية تأكل القرى مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے جو تمام بستیوں کو کھا یقولون يثرب وهي المدينة جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں اور وہ تنفى الناس كما ينفى الكير خبث مدینہ ہے۔ یہ بستی لوگوں کی کثافت کو دور کر دے گی جس طرح لوہار کی بھٹی لوہے کی کثافت الحديد ۔ کو دور کر دیتی ہے ۔ قدیم مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چیلنج کا سامنا تھا۔ اگر آپ اس چیلنج کا مقابلہ براہ راست کرتے تو آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر مکہ کے مخالفین سے لڑ جاتے ۔ مگر اس کے بجائے آپ نے مکہ کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آپ نے ” اقدام “ کے بجائے ” پس پائی “ کے طریقہ کا انتخاب کیا۔ کیوں کہ اس وقت کے حالات میں یہ اندیشہ تھا کہ اقدام الٹے نتیجہ والا ثابت ہوگا۔ (counter-productive) صورت حال یہ تھی کہ مکہ کے لوگوں کے لیے بت پرستی ذاتی انٹرسٹ کی حیثیت رکھتی تھی۔ ان کے معاشی ذرائع بہت محدود تھے۔ چنانچہ انھوں نے یہ کیا کہ عرب کے ۳۶۰ قبیلوں کے بت کعبہ میں رکھ دیے ۔ اس طرح عرب کے تمام قبیلے اپنے بتوں کی پرستش کے لیے مکہ آتے اور وہاں نذریں دیتے اور چڑھایا چڑھاتے۔ قریش مکہ کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ محمدؐ کے پیغام توحید کو مان کر تمام بتوں کو ختم کر دیں تو اس کے بعد ان کے واحد ذریعہ معاش کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مگر مدینہ والوں کی نفسیات اس سے مختلف تھی ۔ مدینہ میں پانی تھا اور وہاں کے لوگوں کی معاش کا انحصار کھیتی اور باغبانی پر تھا۔ ان کو یہ اندیشہ نہیں تھا کہ بت پرستی کا خاتمہ ہوا تو اسی کے ساتھ ان کے ذریعہ معاش کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ اس طرح ہجرت مدینہ گویا مخالف ماحول سے نکل کر موافق ماحول میں جانے کے ہم معنی تھی۔ چنانچہ مدینہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام توحید کو نہایت تیزی کے ساتھ قبول کر لیا۔ حتیٰ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page