Urdu book · عظمتِ اسلام

عظمتِ اسلام

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ مدینہ کی بیشتر آبادی اسلام میں داخل ہوگی ۔ جب مہاجرین مکہ کے ساتھ انصار مدینہ کی طاقت مل گئی تو آپ اس حیثیت میں ہو گئے کہ اسلام کو نہ صرف مدینہ میں بلکہ پورے عرب میں غالب اور سر بلند کر سکیں ۔ سادہ کاغذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو واقعات پیش آئے ، ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو حدیبیہ کی نسبت سے مشہور ہے ۔ یہ واقعہ شہر ھرم میں پیش آیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ۱۴ سو اصحاب کے ساتھ سفر کرتے ہوئے جب مکہ کے قریب حدیبیہ میں پہنچے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی ۔ آپ نے فرمایا کہ اونٹنی کو اس ہستی نے روک دیا ہے جس نے ابرہہ کے ہاتھیوں کو روک دیا تھا ۔ آپ وہیں ٹھہر گئے اور فرمایا : لا تُدْعَوْنَ قُرَيْشُ اليومَ الي خُطَّةِ قریش آج مجھے جس چیز کی بھی دعوت دیں جس میں يَسْأَلُوْنِيْ فِيْهَا صِلَةَ الرَّحِمِ إِلَّا اَعْطَيْهُمُ که صلہ رحمی ہو تو میں ضرور وہ چیز انھیں دوں گا۔ إيَّاهَا - سيرة ابن ہشام ۳ / ۳۵۸ ، البدایہ والنہایہ ۴ / ۱۹۵ ، الکامل فی التاریخ لابن اثیر ۲ / ۲۰۰ اس کے بعد آپ کے اور قریش کے درمیان گفتگو شروع ہوئی ۔ یہاں تک کہ آپ نے قریش کی شرائط پر وہ معاہدہ کر لیا جس کو معاہدہ حدیبیہ کہا جاتا ہے ۔ جس کے مطابق طے پایا تھا کہ دس سال تک دونوں فریقوں کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہوگی ۔ یہ ایک معلوم تاریخی واقعہ ہے کہ قدیم عرب صلہ رحمی کو بے حد اہمیت دیتے تھے ۔ ان کی قبائلی روایت کے مطابق ، یہ بالکل ناممکن تھا کہ وہ آپ کے سامنے ایسی تجویز پیش کریں جو صلہ رحمی کے اصول کے خلاف ہو اور قطع رحم پر مبنی ہو ۔ اس اعتبار سے گویا کہ آپ نے یہ فرمایا کہ میں قریش کے سامنے سادہ کاغذ پیش کرتا ہوں ۔ وہ جو چاہیں اس پر لکھ دیں۔ میں اس کو مان لوں گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کھلی پیش کش کا سبب یہ تھا کہ آپ یہ جانتے تھے کہ قریش خواہ بظاہر کیسی ہی شرائط کا غذ پر لکھوائیں لیکن جنگ بندی کے بعد یہ واقعہ لازمی طور پر پیش آئے گا کہ دعوت کے امکانات کھل جائیں گے ۔ اور دعوت کے امکانات کا کھلنا فتح اعظم کے امکانات کا کھلنا تھا ، جیسا کہ عملاً دو سال کے اندر پیش آیا ۔ دعوت انسانوں کی تسخیر ہے ۔ اور جب انسان مسخر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page