Urdu book · عظمتِ اسلام

عظمتِ اسلام

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو جائیں تو اس کے بعد ہر چیز مسخر ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد کوئی چیز مسخر ہونے کے لیے باقی نہیں رہتی۔ اعترافِ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مکے سے نکلے تو آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے: ما اطيبك من بلد و احبك الى۔ ولولا ان قومى اخرجونى منك ما سكنت غيرك (اے مکہ تو میرے نزدیک کتنا اچھا شہر ہے اور کتنا محبوب ہے۔ اور اگر تیری قوم مجھ کو تیرے یہاں سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کہیں نہ رہتا، ترمذی) پیغمبر نے اپنے محبوب وطن سے محرومی کو گوارا کیا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ مدینہ میں اسلام کا زبردست مرکز قائم ہو گیا۔ اگر وہ مکہ سے ہجرت کرنے کے بجائے مکہ والوں سے ٹکرائو کا طریقہ اختیار کرتے تو اسلام کی تاریخ بننے سے قبل پہلے ہی قدم پر ختم ہو جاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑی عقلمندی محرومی پر راضی ہونا ہے اور سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ آدمی اپنی محرومی پر راضی نہ ہو___ یہی ایک لفظ میں دنیا کی کامیابی اور ناکامی کا راز ہے اور یہی آخرت کی کامیابی اور ناکامی کا راز بھی۔ محرومی پر راضی ہونا دوسرے لفظوں میں حقیقت واقع کا اعتراف کرنا ہے۔ جب آدمی حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتا ہے تو وہ اپنی جدوجہد کے آغاز کو پا لیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ حقیقت واقعہ کا اعتراف نہ کرے تو وہ ایسی چیزوں کے حصول کے لیے دوڑتا رہے گا جو اس کو ملنے والی نہیں۔ اس بات کو سن کر نادان لوگ ہمیشہ بول اٹھتے ہیں __ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص یا قوم آج محروم ہے وہ ہمیشہ کے لیے اپنے آپ کو محروم بنالے۔ اس قسم کا خیال زندگی سے سراسر ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ زندگی ایک نوپذیر حقیقت ہے۔ زندگی میں ٹھہرائو ممکن نہیں۔ جب آپ اپنے کو اس واقعی مقام پر رکھنے پر راضی ہوتے ہیں جہاں با اعتبار حالات آپ کو ہونا چاہئے تو گویا آپ اپنے کو وہاں رکھتے ہیں جہاں آپ کی زندگی نُمو پذیری کی صلاحیت کو بروئے کار لاسکتی ہے۔ جہاں سے آپ اپنی اگلی منزل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ محرومی پر راضی ہونے والا اپنے آغاز کو پا لیتا ہے، اور اپنے آغاز عمل کو پالینا ہی منزل پر پہنچنے کا سب سے بڑا راز ہے۔ کسی مفکر کا قول ہے، "سیاست ممکنات کا کھیل ہے‘‘، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ آج ممکن ہے اس سے آغاز کر کے آپ وہاں پہنچ سکتے ہیں جو آج آپ کے لیے ممکن نہیں۔ اس کے برعکس اگر آپ آج ہی سے ناممکن سے آغاز کریں تو سفر کا آغاز ہی نہ ہوگا۔ آپ ممکن سے بھی محروم رہیں گے اور ناممکن سے بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page