ایک نظر میں فرصت عمل حاصل کرنا
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک نظر میں فرصت عمل حاصل کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو وہاں کے مشرکین آپ کے سخت مخالف ہوگئے ۔ وہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر طرح ستانے لگے۔ اس وقت آپ نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا کہ لڑکر شہید ہو جائیں۔ نبوت کے تیرہویں سال آپ مکہ چھوڑ کر دور کے شہر مدینہ چلے گئے، تاکہ نئے میدان میں کام کے مواقع تلاش کر سکیں ۔ تاہم مشرکین قریش اب بھی ٹھنڈے نہیں ہوتے۔ اب انھوں نے باقاعدہ آپ کے خلاف جنگ چھیڑ دی ۔ جنگ پر جنگ ہوتی رہی۔ مگر اسلام عرب میں فیصلہ کن طاقت نہ بن سکا۔ آخر کار آپ نے صلح کا فیصلہ کیا۔ آپ نے قریش کے ہر مطالبہ کو مان کر ہجرت کے چھٹے سال ان سے صلح کر لی۔ یہ صلح حدیبیہ تھی۔ صلح حدیبیہ حقیقتاً دس سال کا نا جنگ معاہدہ (No-war Pact) تھا جو دشمن کے مطالبات کو یک طرفہ طور پر مان کر حاصل کیا گیا ۔ صلح حدیبیہ ذی قعدہ ۶ھ میں ہوئی ۔ اور واقدی کے بیان کے مطابق اگلے ہی مہینہ ذی الحجہ ۶ھ میں آپ نے اطراف عرب اور اطراف مدینہ میں دعوتی وفود بھیجنے شروع کر دئے ۔ ابن کثیر نے اس سلسلہ میں حسب ذیل روایت نقل کی ہے : قال عبد اللہ بن وہب ، عن یونس عن الزہری (صلح حدیبیہ کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدثنی عبد الرحمن بن القاری ان رسول اللہ صلی اللہ ایک دن منبر پر خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے۔ آپ نے اللہ علیہ وسلم قام ذات يوم على المنبر خطيباً اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف بیان کی اور شہادت فحمد اللہ واثنى عليه وتشهد ثم قال اما بعد دی ۔ پھر فرمایا کہ اے لوگو، میں چاہتا ہوں کہ تم میں سے فانی اريد ان ابعث بعضكم الى ملوك الاعاجم کچھ لوگوں کو عجمی بادشاہوں کے پاس بھیجوں۔ پس تم لوگ فلا تختلفوا على كما اختلف بنواسرائیل میرے اوپر اختلاف نہ کرو جس طرح بنی اسرائیل نے علی عيسى بن مريم - فقال المهاجرون يا رسول الله عیسی بن مریم سے اختلاف کیا۔ مہاجرین نے کہا اے انا لا نختلف عليك في شئ ابدا فمرنا وابعثنا اللہ کے رسول، ہم آپ سے کسی بھی چیز میں کبھی اختلاف ابن كثير ، السيرة النبویة ، المجلد الثالث، صفحه ۵۰) نہ کریں گے۔ پس آپ ہم کو حکم دیجئے اور ہم کو بھیجئے ۔ صلح حدیبیہ کے بعد جن امیروں اور بادشاہوں کو آپ نے دعوتی خطوط بھیجے ان کی تعداد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader