خدا کا ذکر
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کا ذکر عن قیس بن ابی حازم قال کان عبد الله قیس بن حازم تابعی حضرت عبد اللہ بن رواحہ صحابی بن رواحة واضعا رأسه في حجر امراته کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ اپنا سر اپنی بیوی کی فبكى فبكت امرأته قال ما يبكيك قالت گود میں رکھے ہوئے تھے کہ وہ روپڑے۔ ان کی بیوی رأيتك تبكى فبكيت قال انى ذكرت قول بھی رونے لگیں۔ انھوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ الله عز وجل (وان منكم الاواردھا) تم کو کس چیز نے رلایا۔ بیوی نے کہا کہ میں نے آپ فلا ادری انجو منھا ام لا ۔ وفي رواية کو روتے ہوئے دیکھا تو میں بھی رونے لگی۔ حضرت وكان مريضا عبد اللہ بن رواحہ نے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ قول (تفسیر ابن کثیر ، الجز الثالث ، صفحه ۱۳۲) یاد آیا کہ تم میں سے ہر شخص جہنم سے گزرے گا (ریم) تو مجھے نہیں معلوم کہ میں اس سے بچ جاؤں گا یا نہیں بچوں گا۔ ایک روایت کے مطابق اس وقت حضرت عبد اللہ بن رواحہ بیمار تھے۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ۔ ایک جلیل القدر صحابی کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ وہ چیز کیا ہے جس کو شریعت میں " ذکر " کہا جاتا ہے ۔ ذکر الفاظ کے ورد کا نام نہیں ۔ وہ ایک معنوی طوفان کا نام ہے جو ایک بندے کے سینہ میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے رب کو یاد کرے ۔ ایک شخص جو واقعۃً اللہ پر یقین رکھتا ہو وہ جب اللہ کو یاد کرتا ہے تو وہ اس کی عظمت سے دہل اٹھتا ہے ۔ وہ اس کے سامنے پیشی کے تصور سے کانپنے لگتا ہے ۔ اس وقت اس کے اندر کی کیفیت بے اختیارانہ طور پر لفظوں کی صورت میں ڈھل جاتی ہے ۔ یہی ذکر ہے ۔ خدا کا ذکر کو اپنے سینہ میں اتارنے کا نام ہے ، ایسے خدا کو جس کی برداشت پہاڑ بھی نہیں کر سکتے ۔ اس طوفان خیز لمحہ میں جو ربانی کلمات انسان کی زبان سے نکلتے ہیں انھیں کا نام ذکر ہے ۔ ذکر خدا کو پانے کا نام ہے نہ کہ کسی قسم کے الفاظ کو پانے کا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader