Urdu book · عظمتِ اسلام

خدا کا ذکر

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کی یاد یا خدا سے دعا انسان اور خدا کے درمیان رابطہ کا ذریعہ ہے۔ حتیٰ کہ انسان جب دل سے پکارتا ہے تو اسی وقت وہ خدا کی طرف سے اس کا جواب بھی پالیتا ہے۔ ہیون سانگ (Hsuan-tsang) ایک چینی بدہسٹ ہے۔ وہ ۶۰۲ء میں پیدا ہوا اور ۶۶۴ء میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ۶۲۹ء میں چین سے سفر کر کے انڈیا آیا۔ انڈیا کے بارہ میں اس کا سفر نامہ بہت تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا نے بتایا ہے کہ ہندوستان میں قیام کے آخری زمانہ میں ہیون سانگ کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ ایک سفر کے دوران کچھ بحری قزاقوں نے اس کو پکڑ لیا۔ یہ لوگ ہندو دیوی درگا کے پجاری تھے۔ انھوں نے ہیون سانگ کو اپنی دیوی کے نام بلیدان کرنا چاہا۔ سانگ نے کافی احتجاج کیا۔ اس نے کہا کہ وہ ایک بودھ درویش ہے اور صرف سچائی کی تلاش میں نکلا ہے۔ مگر بحری قزاقوں نے اس کی چیخ پکار کا کچھ بھی لحاظ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ بظاہر اس کی موت یقینی ہو گئی۔ ہیون سانگ اس وقت کشتی پر سوار تھا۔ آخر کار وہ خاموش ہو کر دھیان گیان اور دعا میں مصروف ہوگیا۔ جس وقت وہ دعا اور مراقبہ میں مشغول تھا، سمندر میں زبردست طوفان اٹھا موجوں کے تھیپڑے نے کشتی کو گھیر لیا۔ یہ منظر دیکھ کر بحری قزاق اتنا گھبرا آئے کہ انھوں نے ہیون سانگ کو چھوڑ دیا اور شرمندہ ہو کر اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگنے لگے : While he was absorbed in meditation, a violent storm arose that buffeted the boat. The priates were so terrified that they freed the holy monk and asked for forgiveness and repentance. (8/1126) چینی سیاح کے ساتھ یہ جو واقعہ پیش آیا۔ وہ قرآن کے اس بیان کے مطابق تھا کہ جب کوئی آدمی اضطرار اور مجبوری کی حالت کو پہنچ جاتے اور اس وقت وہ دل سے خدا کو پکار لے تو خدا اس کی مدد کرتا ہے اور اس کی مصیبت کو اس سے دور کر دیتا ہے (النمل ۶۲) اس میں مومن اور غیر مومن کی کوئی تفریق نہیں۔ جو بندہ بھی اپنے کسی نازک وقت میں اپنے رب کو پکارے گا وہ اس کی طرف سے اس کا جواب پائے گا۔ اس قسم کے واقعات ایک طرف خدا کے وجود کا ثبوت ہیں، اور دوسری طرف وہ بتاتے ہیں کہ اس دنیا میں انسان تنہا نہیں بلکہ اس کا ایک پاسبان ہے جو ہر مشکل وقت میں اس کے کام آتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page