Urdu book · عظمتِ اسلام

خدا کی موجودگی

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ عظیم اور بامعنی کائنات اپنے آپ بن گئی اور اپنے آپ چل رہی ہے۔ وہ ایک ایسی بات کہتے ہیں جس سے زیادہ بے دلیل بات اور کوئی نہیں ہو سکتی ۔ ۳ جون ۱۹۸۸ء کو ہونے والے واقعات میں سب سے اہم اخباری واقعہ وہ حادثہ تھا جو ایران کی ہوائی کمپنی کے ساتھ پیش آیا۔ ایران ائیر (Iran Air) کا ایک مسافر بردار جہاز (Airbus A-300) تہران سے اڑا۔ وہ دبئی جانے کے لیے خلیج فارس کے اوپر سے گزر رہا تھا کہ امریکہ کے جنگی جہاز (USS Vincennes) نے اس کو مار کر گرا دیا۔ عملہ سمیت اس کے ۲۹۰ مسافر ہلاک ہو گئے جن میں مرد، عورتیں اور بچے سب شامل تھے ۔ یہ بلاشبہ ایک وحشیانہ واقعہ تھا۔ اتنا سنگین وحشیانہ واقعہ کیوں پیش آیا۔ اس کا جواب امریکی بحریہ کے افسروں نے یہ دیا ہے کہ یہ کمپیوٹر کی غلطی (Computer error) تھی۔ ان کے کمپیوٹر نے مسافر بردار جہاز کو جنگی جہاز بتایا، اس لیے انھوں نے اس پر وار کیا۔ امریکی بحریہ کے مذکورہ جہاز پر جدید ترین قسم کے راڈ ر لگے ہوئے ہیں۔ اس راڈ ر کے ساتھ کمپیوٹر کا انتہائی جدید نظام نصب کیا گیا ہے جو مصنوعی ذہانت (Artificial intelligence) سے مسلح ہے۔ یہ سسٹم یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ فضا میں اڑنے والے جہاز کا معائنہ کر کے راڈر اسکرین پر لفظوں میں لکھ دے کہ وہ کس قسم کا جہاز ہے، دوست یا دشمن ۔ ۳ جون کو جب مذکورہ جہاز فضا کی بلندی میں اڑ رہا تھا تو کمپیوٹر نے اس کا معائنہ کر کے راڈر اسکرین پر جہاز کا اصل نام (ایربس اے ۳۰۰) لکھنے کے بجائے جیٹ فائٹر (F-14 jet fighter) لکھ دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ دوست جہاز نہیں ہے بلکہ دشمن کا جنگی جہاز ہے۔ اس کے فوراً بعد جہاز کے افسر (Captain Will Rogers III) نے بٹن دبایا اور دو میزائل نے اڑ کر جہاز کو اس کے تمام مسافروں سمیت قبرستان میں پہنچا دیا (ہندوستان ٹائمز، ۱۳ جولائی ۱۹۸۸ء، صفحہ (۱۲) جدید ملحدین کا یہ کہنا ہے کہ کائنات ایک مشین ہے ۔ اگر کائنات صرف ایک مشین ہے تو یہاں مذکورہ قسم کی مشینی غلطیاں کیوں نہیں ہوتیں۔ کیا وجہ ہے کہ اتنی بڑی کائنات بالکل بے خطا انداز میں مسلسل چلی جا رہی ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page