Urdu book · عظمتِ اسلام

بامقصد تخلیق

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

بامقصد تخلیق یہ دنیا کیوں بنی۔ انسان کیوں یہاں پیدا ہوتا ہے۔ کس لیے وہ ایک خاص مدت کے بعد مر جاتا ہے۔ مرنے کے بعد کیا ہونے والا ہے ۔ یہ سب سے زیادہ اہم سوالات ہیں جن پر ہر انسان کو سوچنا چاہیے۔ ان سوالات کا صحیح جواب معلوم کرنا بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ہزاروں برس سے انسان ان سوالوں کے بارہ میں سوچتا رہا ہے۔ مختلف لوگوں نے ان کے مختلف جواب دیے ہیں۔ تاہم بڑی تقسیم میں ان کو دو قسم میں بانٹا جا سکتا ہے۔ ایک وہ جوابات جن کے مطابق، یہ سارا ہنگامہ عبث (المومنون ۱۱۵) اور بے مقصد ہے۔ اور دوسرا جواب وہ ہے جو یہ خبر دیتا ہے کہ انسان کی تخلیق کا ایک مقصد ہے اور اس کا ایک انجام سامنے آنے والا ہے۔ پہلا جواب شاعروں، فلسفیوں اور دنیوی عالموں نے دیا ہے۔ دوسرا جواب ان بستیوں کا دیا ہوا ہے جن کو پیغمبر کہا جاتا ہے اور جس کا مستند ترین پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں پایا جاتا ہے۔ ان دونوں قسم کے جوابوں کے تقابل میں بہت سی باتیں کہی جا سکتی ہیں، مگر ایک بات بالکل واضح ہے۔ وہ یہ کہ پہلا جواب زندگی اور کائنات کے ڈھانچہ میں مطابق نہیں بیٹھتا۔ جب کہ دوسرا جواب زندگی اور کائنات کے نقشہ میں پوری طرح فٹ ہو جاتا ہے۔ اس میں کوئی اندرونی تضاد نہیں پایا جاتا۔ یہ دنیا جس کے اندر انسان پیدا ہوتا ہے وہ انتہائی با معنی ہے۔ یہاں کوئی چیز بے معنی اور الل ٹپ نظر نہیں آتی۔ اسی طرح انسان کا وجود بھی پوری طرح ایک با معنی وجود ہے۔ اب یہ نا قابل قیاس ہے کہ ایک با معنی انسان ایک انتہائی با معنی کائنات میں پیدا کیا جائے مگر اس کا کوئی مقصد نہ ہو۔ واقعہ اور توجیہہ کے درمیان یہ تضاد خود یہ ثابت کرتا ہے کہ واقعہ کی یہ توجیہہ درست نہیں۔ جہاں معنویت ہو وہاں مقصدیت بھی ضرور ہوگی۔ معنویت کبھی مقصد کے بغیر پائی نہیں جاسکتی۔ کائنات کا یہ پہلو پیغمبر کے جواب کی کھلی ہوئی تصدیق ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page